اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ میں کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کے آخری مرحلے میں داخل تجربہ کامیاب رہا تو ویکسین مارکیٹ میں کب آجائے گی ؟ جانئے

datetime 12  جون‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکہ میں کوویڈ نائنٹین کی پہلی ممکنہ ویکسین کا آئندہ ماہ وسیع پیمانے پر تجربہ کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کیا وہ واقعی کرونا وائرس کے لیے موثر ہے یا نہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات ایک دواساز ادارے نے ایک بیان میں کہی۔اس ویکسین کو امریکی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ اینڈ موڈرینا نے تیار کیا اور جولائی میں اسے 30 ہزار رضاکاروں پر آزمایا جائے گا۔

ان میں سے کچھ کو اصلی ویکسین اور کچھ کو جعلی دوا دی جائے گی۔کسی بھی ویکسین کو عوم کے لیے فراہم کیے جانے سے پہلے کئی مرحلوں میں آزمائش سے گزارا جاتا ہے تاکہ اس کے کوئی مضر اثرات ہوں تو ان کا پتا لگایا جا سکے۔ کلینیکل تجربات میں کچھ مریضوں کو موثر ویکسین اور بعض کو بے ضرر دوا دینا معمول کا حصہ ہے۔موڈرینا کا کہنا تھا کہ اس نے فیصلہ کن آخری مرحلے کی جانچ کے لیے کافی تعداد میں خوراکیں بنا لی ہیں۔ آخری مرحلے سے پہلے دیکھا جاتا ہے کہ محدود سطح کے ابتدائی تجربات کے کیا نتائج برآمد ہوئے۔ لیکن موڈرینا کے اعلان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تجربات میں حوصلہ افزا پیشرفت ہوئی ہے۔موڈرینا نے اپنی ویکسین کو وسط مارچ میں جانچنا شروع کر دیا تھا اور اس کا آغاز 45 رضاکاروں سے کیا تھا۔ دوسرے مرحلے میں 300 نوجوان رضاکاروں کو شامل کیا گیا اور یہ تحقیق بھی شروع کی کہ زیادہ عمر کے افراد پر ویکسین کا کیسا اثر ہوتا ہے۔ان ابتدائی تجربات کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ ویکسین کی مختلف خوراکیں لوگوں کے مدافعتی نظام کو کیسے متحرک کرتی ہیں اور اس کے کوئی مضر اثرات ہوں تو سامنے آ جائیں۔ وسیع پیمانے پر تجربے سے معلوم ہو سکے گا کہ یہ ویکسین واقعی موثر ہے یا نہیں۔دنیا بھر میں کوویڈ 19 کی تقریبا ایک درجن ویکسینز جانچ کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ این آئی ایچ کو توقع ہے کہ موسم گرما میں مزید کئی ممکنہ ویکسینز کے بڑے پیمانے پر تجربات ہوں گے۔ ان میں سے ایک آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے بنائی ہے۔ اس بات کی کوئی

ضمانت نہیں کہ ان میں سے کوئی موثر ثابت ہو گی یا نہیں۔این آئی ایچ کے ویکسین ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جان میسکولا نے بدھ کو نیشنل اکیڈمی آف میڈیسن کے ایک اجلاس میں کہا کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو سال کے آخر تک پتا چل جائے گا کہ کون سی ویکسینز کام کرتی ہیں۔کئی ملکوں کی حکومتوں نے مختلف ممکنہ ویکسینز کی دسیوں لاکھ خوراکیں جمع کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ جیسے ہی سائنس دانوں کو معلوم ہو کہ کون سی ویکسین موثر ہے، وہ اپنے عوام کو اس کی فراہمی کا آغاز کر دیں۔ امریکہ میں آپریشن وارپ اسپیڈ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد جنوری تک ویکسین کی 30 کروڑ خوراکوں کا انتظام کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…