بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں کرونا وائرس بے احتیاطی کی وجہ سے پھیلا، قابو پانے کیلئے کتنے ماہ لگ سکتے ہیں ؟ معروف معالجین نے صورتحال واضح کر دی

datetime 9  جون‬‮  2020 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لوگوں کی بے احتیاطی کی وجہ سے کورونا کی صورتحال بگڑ گئی،بیماری ڈاکٹرز میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے ، اس پر قابو پانے میں دو ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے ۔نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے معروف معالج پروفیسر ڈاکٹر ابرار اشرف نے کہا اس وقت پاکستان میں کورونا کا گراف پیک کی طرف گامزن ہے ، جب پاکستان میں لاک ڈاون کیا گیا تھا تو یہ گراف فلیٹ تھا ،

اب لوگوں کی بے احتیاطی کی وجہ سے کورونا پھیل گیا ، کورونا کے واپس آنے میں مزید دو ماہ لگ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ماسک کا استعمال کریں اور سماجی دوری اختیار کرنی چاہئے ،ہمارے ہسپتالوں میں اتنی گنجائش نہیں کہ وہ کورونا کے مریضوں کا مزید بوجھ برداشت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو خود احتیاط اور احساس کرنے کی ضرورت ہے ۔ معروف معالج پروفیسر ڈاکٹر اشرف ضیا نے کہا کہ اس وقت کورونا اپنی پیک کی طرف جا رہا ہے اور جو حالات پاکستان میں بن گئے ہیں، جون کے آخر تک یا جولائی کے شروع تک پیک رہے گی، اب صورتحال یہ ہو گئی کہ لوگ سڑکوں پر کورونا کو لیکر گھوم رہے ہیں، یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے ، انہوں نے کہا کہ لوگوں کو خود بھی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے ،ہمیں اپنی قوت مدافعت کو بہتر رکھنا ہو گا۔معروف معالج ڈاکٹر سلیمان کاظمی نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ابھی پاکستان میں کورونا کی پیک آنی ہے ،جیسے ہم نے سوچا تھا کہ کورونا بہت تیزی سے آئے گا، ایسا نہیں ہوا لیکن اب کرونا میں بہت تیزی آ گئی ہے ، ابھی ہم اگر 200 ٹیسٹ کرتے ہیں تو ان میں سے 30 سے 40 پازیٹیو آ رہے ہیں، جب 200 میں سے 170 پازیٹو آئیں گے تو تب کورونا کی پیک ہو گی۔ انہوں نے کہا ڈاکٹرز میں بھی کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے ، ڈاکٹرز بھی ڈر گئے ہیں، اگر ڈاکٹرز ڈر گئے تو علاج کون کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو ہسپتالوں میں آکسیجن مل رہی ہے ، آگے کے حالات ایسے نہ بن جائیں کہ لوگ آکسیجن کو بھی ترسیں، اس لئے سب سے بہتر احتیاط ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…