بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

پاک ایران سرحدی شہر تفتان میں ایران سے متصل دو مزید تجارتی پوائنٹ تجارت کے لیے کھول دیے گئے، عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

datetime 6  جون‬‮  2020 |

تفتان ( آن لائن )پاک ایران کے سرحدی شہر تفتان میں ایران سے متصل دو مزید تجارتی پوائنٹ تجارت کے لیے کھول دئیے گئے تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ کے حکم نامہ کے مطابق تجارتی سرگرمیوں کے لیے پاک ایران امیگریشن گیٹ اور دو طرفہ دوستانہ زیرو پوائنٹ گیٹ کو کھول دیا گیا ہے

کورونا وائرس پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر پاک ایران تجارتی سرگرمیاں معطل کیا گیا تھا عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے بذریعہ مراسلہ 10 مئی سے ایران سے تجارتی سرگرمیوں کو بحال کردیا تھا، تجارتی سرگرمیاں عید کے تعطیلات کی وجہ سے بند کیے گئے تھے جن پر آج دوبارہ تجارتی سرگرمیاں بحال کی گئی ہے یاد رہے کہ پاک ایران امیگریشن گیٹ اور زیرو پوائنٹ سے ٹرانزٹ ٹریڈ ہفتے میں تین دن کھولا رہے گا تجارتی سامان ایران سے لانے کی اجازت دی گئی تھی پاک ایران دوستانہ گیٹ پر ایران سے آنے والے سامانوں کی زیرو پوائنٹ کے مقام پر اسپرئے بھی کیا گیا تفتان بارڈر پر صرف ایران سے تجارتی سرگرمیاں بحال ہیں اور جبکہ پاکستان سے ایران تجارتی سرگرمیاں تاحال معطل ہیں عوامی حلقوں نے پاک ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان سے بھی تجارتی سرگرمیاں بحال کی جائے تاکہ ہمارے ملک کے تاجروں کو بھی فائدہ حاصل ہو ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…