بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کورونا وائرس سے بیرون ملک مقیم سینکڑوں پاکستانی جاں بحق، سب سے زیادہ پاکستانی کس ملک میں جاں بحق ہوئے، انتہائی افسوسناک انکشاف

datetime 5  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لا ئن) کورونا کے موذی مرض سینکڑوں سمندر پار پاکستانیوں کو موت کے منہ میں دھکیل چکا ہے۔ اس معاملے میں امارات میں مقیم پاکستانی سرفہرست ہیں جہاں کورونا کے باعث 32 پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ سعودی عرب میں مقیم 20 پاکستانی کورونا کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔میڈیا رپرٹس کے مطابق اس بات کا انکشاف پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے آج کی پریس بریفنگ کے دوران کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خاتون ترجمان نے بتایا کہ کورونا کے باعث بیرون ممالک مقیم 339 پاکستانی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب میں کورونا کی وجہ سے 20، متحدہ عرب امارات میں 32، قطر میں 2 جبکہ کویت میں 1 پاکستانی جاں بحق ہوا ہے، عائشہ فاروقی نے بتایا کہ اب تک کورونا اور دیگر وجوہات کی بناء پر وفات پانے والے 424 پاکستانیوں کی میتیں واپس لائی گئی ہیں۔اب تک 51 ہزار500 پاکستانیوں کو 65 ممالک سے واپس لایا گیا ہے۔ 54 ہزار 500 پاکستانی یو اے ای سے واپس آنا چاہتے ہیں، جبکہ سعودی عرب سے 30 ہزار 500 افراد نے وطن واپسی کی خاطررجسٹریشن کروائی ہے۔۔ اس کے علاوہ برطانیہ اور امریکا میں بھی درجنوں پاکستانیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔دْوسری جانب سعودی عرب میں تعینات پاکستانی سفیر راجا علی اعجاز نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستانی سفارت خانے کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔اس بے بنیاد پراپیگنڈے میں یہ کہا جا رہاہے کہ پاکستانیوں کی میتیں گھروں میں پڑی ہیں، انہیں دیکھنے والا کوئی نہیں اور سفارت خانہ اس معاملے سے لاعلمی کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ سفارت خانے کے علم میں ہے۔ ہمارا عملہ ہر اس جگہ پر بروقت پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، جہاں پر بھی کسی پاکستانی کی میت ہوتی ہے۔اور پھر اسے کسی سرد خانے میں منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ میت کی بے حْرمتی نہ ہو اور وہ محفوظ رہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے تمام نجی اور سرکاری مردہ خانے میتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

وہاں پر میت رکھنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ تاہم جیسے ہی گنجائش بنتی ہے، تو ہمارے پاکستانی بھائی کی میت وہاں پر منتقل کر دی جاتی ہے۔ اس میں تھوڑا سا وقت لگ جاتا ہے۔ واضح رہے یہ صورت حال اب بنی ہے، وبا سے پہلے ایسی مشکل پیش نہیں آتی تھی۔ اس وقت کی وجہ سے کسی شخص یا دفتر کو الزام نہیں دینا چاہیے۔وبا سے پہلے مردہ خانوں میں بہت گنجائش ہوتی تھی۔ تاہم وبا کی وجہ سے تیزی سے ہونے والی اموات کے باعث میتوں کو بروقت مردہ خانوں میں منتقل کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔2 جون کو 20 میتیں پاکستان بھجوائی گئیں جبکہ 6 جون کو قومی ایئر لائن کے ذریعے بھی اتنی ہی میتیں پاکستان روانہ کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…