پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

کورونا وائرس سے بیرون ملک مقیم سینکڑوں پاکستانی جاں بحق، سب سے زیادہ پاکستانی کس ملک میں جاں بحق ہوئے، انتہائی افسوسناک انکشاف

datetime 5  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لا ئن) کورونا کے موذی مرض سینکڑوں سمندر پار پاکستانیوں کو موت کے منہ میں دھکیل چکا ہے۔ اس معاملے میں امارات میں مقیم پاکستانی سرفہرست ہیں جہاں کورونا کے باعث 32 پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ سعودی عرب میں مقیم 20 پاکستانی کورونا کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔میڈیا رپرٹس کے مطابق اس بات کا انکشاف پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے آج کی پریس بریفنگ کے دوران کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خاتون ترجمان نے بتایا کہ کورونا کے باعث بیرون ممالک مقیم 339 پاکستانی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب میں کورونا کی وجہ سے 20، متحدہ عرب امارات میں 32، قطر میں 2 جبکہ کویت میں 1 پاکستانی جاں بحق ہوا ہے، عائشہ فاروقی نے بتایا کہ اب تک کورونا اور دیگر وجوہات کی بناء پر وفات پانے والے 424 پاکستانیوں کی میتیں واپس لائی گئی ہیں۔اب تک 51 ہزار500 پاکستانیوں کو 65 ممالک سے واپس لایا گیا ہے۔ 54 ہزار 500 پاکستانی یو اے ای سے واپس آنا چاہتے ہیں، جبکہ سعودی عرب سے 30 ہزار 500 افراد نے وطن واپسی کی خاطررجسٹریشن کروائی ہے۔۔ اس کے علاوہ برطانیہ اور امریکا میں بھی درجنوں پاکستانیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔دْوسری جانب سعودی عرب میں تعینات پاکستانی سفیر راجا علی اعجاز نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستانی سفارت خانے کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔اس بے بنیاد پراپیگنڈے میں یہ کہا جا رہاہے کہ پاکستانیوں کی میتیں گھروں میں پڑی ہیں، انہیں دیکھنے والا کوئی نہیں اور سفارت خانہ اس معاملے سے لاعلمی کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ سفارت خانے کے علم میں ہے۔ ہمارا عملہ ہر اس جگہ پر بروقت پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، جہاں پر بھی کسی پاکستانی کی میت ہوتی ہے۔اور پھر اسے کسی سرد خانے میں منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ میت کی بے حْرمتی نہ ہو اور وہ محفوظ رہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے تمام نجی اور سرکاری مردہ خانے میتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

وہاں پر میت رکھنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ تاہم جیسے ہی گنجائش بنتی ہے، تو ہمارے پاکستانی بھائی کی میت وہاں پر منتقل کر دی جاتی ہے۔ اس میں تھوڑا سا وقت لگ جاتا ہے۔ واضح رہے یہ صورت حال اب بنی ہے، وبا سے پہلے ایسی مشکل پیش نہیں آتی تھی۔ اس وقت کی وجہ سے کسی شخص یا دفتر کو الزام نہیں دینا چاہیے۔وبا سے پہلے مردہ خانوں میں بہت گنجائش ہوتی تھی۔ تاہم وبا کی وجہ سے تیزی سے ہونے والی اموات کے باعث میتوں کو بروقت مردہ خانوں میں منتقل کرنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔2 جون کو 20 میتیں پاکستان بھجوائی گئیں جبکہ 6 جون کو قومی ایئر لائن کے ذریعے بھی اتنی ہی میتیں پاکستان روانہ کی جائیں گی۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…