بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

وزارت صحت، عدالت اور عوام کے ساتھ کھیل رہی ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پھٹ پڑے

datetime 4  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ وزارت صحت، عدالت اور عام عوام کے ساتھ کھیل رہی ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ہائیکورٹ میں کورونا وائرس کے باعث ڈاکٹرز کے زیر التواء کیسز سے متعلق آرڈر جاری نہ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وزارت صحت میں سیکشن افسر سب سے اوپر ہے، وہی تمام معاملات چلاتا ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے آرڈر جاری نہ کرنے پر وزارت صحت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری صحت کو 12 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریماکس دیے کہ اس وقت ڈاکٹرز نے اپنی زندگیاں داؤ پر لگائی ہوئی ہیں، آپ کورونا کی صورتحال میں ڈاکٹرز کو کیوں ڈسٹرب کر رہے ہیں؟۔ انہوںنے کہاکہ وزارت صحت عدالت اور عام عوام کے ساتھ کھیل کھیل رہی ہے، کورونا وائرس کی صورتحال اور غیر معمولی حالات میں بھی وزارت صحت کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ ڈاکٹرز کورونا سے لڑنے والے فرنٹ لائن سپاہی ہیں، ساری دنیا اپنے ڈاکٹرز کو سیلوٹ کر رہی ہے، یہاں وزارت صحت ڈاکٹرز کو عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور کر رہی ہے۔نمائندہ پمز ہسپتال نے کہا کہ مجھے بھی کچھ کہنے کا موقع دیا جائے جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ آپ کا نہیں، وزارت صحت کا قصور ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے ڈاکٹرز کے کیسز میں فیصلہ دینے سے گریز کیا تاکہ وہ ڈسٹرب نہ ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…