منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

قرنطینہ مرکز سے بھاگنے والا کرونا کامریض ایک اور عجیب بیماری میں مبتلا

datetime 4  جون‬‮  2020 |

نئی دہلی (آن لائن)) بھارتی ریاست گجرات میں کرونا وائرس کا ایک مریض موت کے خوف سے قرنطینہ سینٹر سے بھاگ گیا، تاہم وہ ایک اور عجیب بیماری میں مبتلا ہو گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات کے شہر احمد آباد میں 22 سالہ نوجوان سمیر انصاری کو وِڈ 19میں متبلا ہو گیا تھا جسے نورنگ پورہ میں گجرات یونیورسٹی ہوسٹل کے قرنطینہ سینٹر میں رکھا گیا ۔

تاہم کرونا وائرس سے شرح اموات سے خوف زدہ ہو کر وہ وہاں سے بھاگ گیا۔ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ سمیر انصاری جمعرات کو بھاگا، جس کے بعد وہ اپنے علاقے غریب نگر گیا تاہم پولیس نے پہلے ہی علاقے کو گھیر رکھا تھا، جس پر وہ پلٹا اور لال بہادر شاستری اسٹیڈیم میں جا کر چھپ گیا۔پولیس کے مطابق سمیر انصاری 2 دن تک اتنے بڑے، خالی اور ویران اسٹیڈیم میں چھپا رہا، جہاں زندگی کا کوئی نشان نہیں تھا، اس لیے وہ ایک عجیب بیماری کا شکار ہو گیا، جسے شدید بوریت کہا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا آغاز تب ہوتا ہے جب ماحول میں کسی شخص کی دل چسپی کی کوئی چیز نہیں رہ پاتی، سب سے پہلے اس کا حملہ دماغ پر ہوتا ہے، انسان بور ہو جاتا ہے لیکن جلد ہی اس کے جسمانی اثرات بھی نمودار ہونا شروع ہوتے ہیں جن میں شدید بے چینی اور تھکاوٹ اور موڈ کا بہت تیزی سے گر جانا شامل ہیں۔پولیس کا کہنا تھا کہ اسٹیڈیم میں عموما لوگ اچھا وقت گزارتے ہیں لیکن لاک ڈان کی وجہ سے یہ سنسان تھا، جس کی وجہ سے سمیر انصاری دو دن کے اندر شدید بوریت کا شکار ہو گیا، کھیل کے میدان میں تنہائی نے اس پر اثر کرنا شروع کر دیا تھا، جس پر ہفتے کی شام کو اس نے گھبرا کر پولیس کے آگے سرنڈر کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق سمیر انصاری نے اسٹیڈیم سے اپنے بھائی کو فون کر کے اطلاع دی، جس پر بھائی نے جا کر اسے ہاسٹل میں علاج کے لیے واپس پہنچا دیا۔ جب انکوائری کی گئی تو معلوم ہوا کہ اسے خوف لاحق ہو گیا تھا کہ اگر وہ ہاسٹل میں رہا تو مر جائے گا، تاہم وہ اپنی فیملی کو بھی وائرس سے متاثر نہیں کرنا چاہتا تھا۔گجرات پولیس نے غفلت کا مظاہرہ کرنے اور متعدی بیماری پھیلانے کے لیے سمیر انصاری کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا، اور کہا کہ کرونا سے صحت یاب ہونے کے بعد اس سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…