بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کرونا وائرس سے انتقال کر گئے

datetime 2  جون‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)سندھ کے صوبائی وزیر برائے کچی آبادی اور پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے۔ترجمان حکومتِ سندھ مرتضیٰ وہاب کے مطابق رکن سندھ اسمبلی اور صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ دو ہفتے قبل کورونا وائرس وبا کا شکار ہوئے تھے

اور نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ وینٹی لیٹر پر منتقل کردئیے گئے تھے۔ غلام مرتضی بلوچ صوبائی حکومت کی جانب سے ملیر میں کورونا روک کی تھام کیلئے بنائی گئی ٹاسک فورس کے انچارج بھی تھے۔سندھ اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق غلام مرتضی بلوچ 4 اگست 1964 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ بی کام تک تعلیم حاصل کی۔ وہ 2002 سے 2004 اور 2005 سے 2009 تک گڈاپ ٹائون کے ناظم رہے۔ 2016 میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2017 کے انتخابات میں انہوں نے ملیر کے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 88 سے کام یابی حاصل کی۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صوبائی وزیر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلام مرتضیٰ بلوچ کے دنیا سے رخصت ہونے پر شدید صدمہ ہوا۔ لاک ڈاؤن کے دنوں میں انہوں نے عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ ہر دور میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کی بلندی درجات کے لیے دعا گو ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی صوبائی وزیر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا مرتضی بلوچ محنتی اور بہادر کارکن تھے ان کی کمی پوری نہیں کی جاسکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…