منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

میت سے زندہ انسانوں میں کرونا وائرس منتقل ہوتا ہے یا نہیں ؟میت کو غسل دیا اور کفن پہنایا جا سکتا ہے ، ڈاکٹر ظفرمرزا نے عوام کی بڑی مشکل آسان کر دی 

datetime 29  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے کہا ہے کہ میت سے زندہ انسانوں میں کورونا وائرس منتقل ہونے کے شواہد نہیں ملے میڈیا سے گفتگو تے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا وائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی تدفین سے متعلق نیا ہدایت نامہ جاری کیا ہے جو حکومت کی کووڈ-19 ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ لاش سے زندہ انسانوں میں

وائرس منتقل ہوسکتا ہے اس لیے کورونا مرنے والوں کی تدفین کے ہدایت نامے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے نئی ایڈوائزری کے مندرجہ ذیل نکات بتاتے ہوئے کہا کہ میت کو ہینڈل کرنے والے افراد، ورکرز اور خاندان والے ذاتی تحفظ کا خیال رکھیں اور ماسک، گاؤن اور دستانے پہنیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ میت کو براہ راست نہ چھوئیں اور غسل دینے کی ممانعت نہیں لیکن ذاتی تحفظ کا خیال رکھا جائے۔انہوںنے کہاکہ غسل کے دوران پانی کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے چشمے استعمال کریں ، میت کو کفن بھی پہنایا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ میت کو قبرستان پہنچانے میں احتیاط کی جائے اور قبر میں میت اتارنے والے افراد ماسک اور حفاظتی کٹس لازمی پہنیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ اسی طرح جنازہ پڑھتے وقت سماجی دور کا خیال رکھا جائے اور مختصر جنازے رکھیں جس میں صرف گھروالے اور خاندان کے قریبی افراد شرکت کریں۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ بعض مقامات پر انتظامیہ نے میت تحویل میں لے لی اور خاندان والوں کو بھی ہاتھ نہیں لگانے دیا تھا اگرچہ حکومت کی جانب سے ایسا پہلے بھی نہیں کہا گیا تھا اگر کہیں ہوا ہے تو غلط تھا اور اب نئے ہدایت نامے میں ہم نے اسے واضح کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…