منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کے علاج کی ویکسین معروف امریکی دواساز ادارے نے بڑا ااعلان کردیا

datetime 28  مئی‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکا کے بڑا دوا ساز ادارے مرک اینڈ کو نے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے ایک گولی اور دو ویکسینیں تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکی ادارے نے ایمری یونیورسٹی کی کرونا وائرس کے علاج کے لیے تحقیق کے بعد ویکسین کی تیاری کے حقوق حاصل کر لیے ہیں۔

اب وہ دوسرے شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر ای بولا اور خسرے کی ویکسین کی ٹیکنالوجی پر مبنی نئی ویکسین تیار کرے گا۔مرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کینتھ فریزئیر نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ کی وجہ سے کمپنی کی قیادت میں تبدیلی کا عمل مؤخر کردیا گیا ہے۔اب معاشی سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں اور ادویہ ساز کمپنیوں میں ویکسین کی تیاری کے لیے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے لیکن اس صورت حال میں ہماری کمپنی کو کسی ایک ملک کو سپلائی مہیا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکے گا بلکہ شعبہ صحت کا عملہ اور کرونا وائرس کے خطرے سے زیادہ دوچار افراد کو ترجیحاً ویکسین مہیا کی جائے گی۔انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ”یہ ایک عالمی وبا ہے، کوئی بھی ایک ملک اس سے نبرد آزما نہیں ہوسکتا اور ہم کسی ایک ملک کے گردا گرد سرحدیں نہیں کھینچیں گے۔اگر ہم کامیاب ہوجاتے ہیں،تو ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر ضرورت مند تک یہ ویکسین پہنچے۔

خواہ وہ کہیں بھی رہتے ہوں۔مرک کے کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے اس اعلان کے بعد حصص میں ڈھائی فی صد اضافہ ہوا ہے۔اس سال کے دوران میں اسٹاک مارکیٹ میں اس کے حصص کی قیمت میں 16 فی صد کمی واقع ہو چکی ہے۔انھوں نے کہا کہ فی الوقت یہ کہنا مشکل ہے کہ ایک کامیاب ویکسین کی لاگت کیا رہے گی لیکن مرک قابل برداشت قیمت پر رسد کو یقینی بنانے کے لیے پْرعزم ہے۔

نیز کمپنی اس کی وسیع پیمانے پر تیاری کے لیے شراکت دار بھی تلاش کرے گی تاکہ عالمی مانگ کو پورا کیا جاسکے۔مرک کووِڈ-19 کے کامل علاج کی تمام دواؤں کی تیاری کے لیے کوشاں ہے اور اس نے وائرس کش مرکب ایڈ -2801 کے حقوق ملکیت کی خریداری سے بھی اتفاق کیا ہے۔یہ دوا ایمری یونیورسٹی میں دریافت کی گئی تھی۔

اس کے ایک اور بائیو ٹیکنالوجی کمپنی رج بیک بائیو تھراپیوٹکس نے پہلے حقوق حاصل کیے تھے۔اس دوا کا کلنیکل آزمائش سے ماقبل مرحلے میں تجربہ کیا گیا ہے اور اس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔کمپنی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس مرکب کو گولی کی شکل میں بھی دیا جاسکتا ہے۔اس وجہ سے اس کا استعمال آسان ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…