ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

بیٹی صرف خیریت سے پہنچنے کا فون کردے ، ائیر ہوسٹس انعم کی والدہ کے نہ رکنے والے آنسوئوں سے رقت آمیز مناظر

datetime 23  مئی‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) ائیر ہوسٹس انعم کی والدہ ابھی تک اپنی بیٹی کے حوالے سے کسی طرح کی افسوسناک خبر سننے کے لئے تیار نہیں اور ان کے نہ رکنے والے آنسوئوں سے انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ انعم کی والدہ اور گھر والوں کا کہناہے کہ اس کا فہرست میں نام نہیں اور ابھی تک کچھ معلوم نہیں ۔ انعم کی والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ روانگی سے قبل فون کرتی اور پھر منزل پر پہنچ کر خیریت سے پہنچنے کا موبائل میسج ضرور کرتی تھی ۔

بیٹا صرف خیریت سے پہنچنے کا فون کر دے ۔ انہوں نے کہا کہ انعم زخمی ہے وہ گھر واپس آئے گی ، اللہ تعالیٰ سب کو صحت دے ۔انہوںنے کہاکہ انعم نے گزشتہ ہفتے امریکہ فلائٹ کینسل کی تھی وہ عید پاکستان میںمنانا چاہتی تھی ۔انعم کے والد اور دیگر اہل خانہ شناخت کیلئے کراچی پہنچ گئے ہیں ۔اس موقع پر انعم خان کے والد مسعود خان کا کہنا تھا انعم خان میری بیٹی نہیں بیٹا تھی، جب میں یا اس کی ماں بیمار ہوتی تھی تو وہ بیٹوں کی طرح ہمارا خیال رکھتی ، علاج کراتی ،چھوٹے بھائی اور دو چھوٹی بہنوں کا بھی خیال رکھتی ۔بھائی حمزہ کا کہنا تھا اس کو ابھی بھی بہن کے فون کا انتظار ہے ۔بد قسمت طیارے کے کپتان سجاد گل کی رہائشگاہ پر بھی تعزیت کرنے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ۔ سجاد گل کے والد حیات گل نے کہا کہ میر ابیٹا بہادر شخصیت کا مالک تھا، انجن فیل ہونے کے باوجود مسافروں کی جان بچانے کی سر توڑ کوششیں کیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…