اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

چین کے ساتھ تمام تعلق داری ختم کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتباہ جاری کر دیا

datetime 15  مئی‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ فی الوقت چینی ہم منصب شی جین پنگ سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں چین کے کرونا وائرس کی وَبا سے نمٹنے کے معاملے پر سخت مایوسی ہوئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہاکہ میری (چینی صدر سے) بہت اچھی تعلق داری ہے لیکن ٹھیک اس وقت میں ان سے بات نہیں کرنا چاہتا ہوں۔

ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ امریکا چین کے خلاف ردعمل میں کیا کارروائی کرسکتا ہے تو انھوں نے اس کا کوئی واضح جواب تو نہیں دیا لیکن دھمکی آمیز لہجے میں کہاکہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو ہم کرسکتے ہیں۔ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں اور ہم تمام تعلق داری ہی کو ختم کرسکتے ہیں۔انھوں نے کرونا وائرس کی روزانہ کی صورت حال کے بارے میں بریفنگ میں کہا کہ اگر یہ غلطی تھی تو پھر غلطی تو غلطی ہی ہے لیکن اگر وہ جانتے بوجھتے ہوئے اس کے ذمے دار ہیں تو پھر انھیں اس کے مضمرات کا خمیازہ بھگتنا چاہیے۔امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کے عہدے دار چین کے شہر ووہان میں گذشتہ سال دسمبر میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ اس نے اس وبا کی معلومات کے تعلق سے شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کو امریکا کی جانب سے ملنے والی مالی امداد بھی معطل کردی ہے اور ڈبلیو ایچ او پر چین مرتکز ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کے درمیان ان (چینیوں ) کے یہ کام کرنے تک اچھے تعلقات استوار تھے۔انھوں نے زرعی شعبے میں ڈیل کے پہلے مرحلے کا حوالہ دیا تھا۔اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سوال یہ ہے کہ کرونا وائرس کے معاملے میں جو کچھ ہوا تھا، وہ ایک غلطی تھااور وہ کنٹرول سے باہر ہوگیا یا یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔ان دونوں چیزوں کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…