منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

صوبائی حکومت کا 6 انفیکشن ڈیزیز اسپتال بنانے کا فیصلہ ہسپتال کتنے بستروں پر مشتمل ہو گا اور لاگت کتنی آے گی ؟

datetime 15  مئی‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) حکومت سندھ نے صوبے کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں 6 انفیکشن ڈیزیز اسپتال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ اور صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو کی صدارت میں اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین پلاننگ بورڈ محمد وسیم، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی، سیکریٹری صحت زاہد عباسی سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز عمران عطا سومرو سمیت

متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کی جاری ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ دسمبر 2020 تک 88 اسکیمیں مکمل کی جائیں گے۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ کرونا وائرس کے پیش نظر محکمہ صحت اولین ترجیح ہے، انہوںنے کہا کہ صوبائی حکومت نے کراچی میں 400 ، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپور خاص اور شہید بینظیر آباد میں 200 بستروں پر مشتمل 6 انفیکشنز ڈیزیز اسپتال بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس پر 10 بلین روپے کی لاگت آئے گی، اجلاس میں لمس جامشورو میں آئی سی یو کی اپگریڈیشن کے لئے 180 ملین روپے کی بھی منظوری دی گئی۔ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام ڈویژنل کمشنرز کو ہدایت کی کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں انفیکشنز ڈیزیز اسپتال کے لئے جلد زمیں کی نشاندہی کی جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے مزید کہا کہ کرونا وائرس صورتحال کے پیش نظر محکمہ صحت کو تمام فنڈز جاری کئے جارہے ہیں۔ اجلاس میں صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے کہا کہ انفیکشنز ڈیزیز اسپتال کے لئے ماہر کنسلٹنٹ مقرر کیا جائے گا، کرونا وائرس کے پیش نظر کراچی میں 400 بستروں پر مشتمل انفیکشنز ڈیزیز اسپتال جلد فعال کیا جائے گا۔ انہوںنے مزید کہا کہ پیرامیڈیکل اسٹاف کے ٹریننگ کے لئے بھی ایک ادارہ بنا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…