ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

جج ارشد ملک ویڈیو کیس !اسلام آباد ہائیکورت نے اہم حکم جاری کر دیا

datetime 15  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے سے جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں تفتیش کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا، کیس کی سماعت 21 مئی تک ملتوی کردی گئی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بینچ نے جج ارشد ملک ویڈیو کیس کی سماعت کی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے عدالت کو بتایا کہ محمد ارشد ملک جوڈیشل افسر ہیں جنہوں نے

ایف آئی آر درج کرائی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر بتائیں کہ ایف آئی آر کے مطابق جرم کیا بنتا ہے؟۔انچارج انوسٹی گیشن ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو 2001  سے 2003 ء کے درمیان بنائی گئی، ملزمان پر جج کی وڈیو بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کا الزام ہے۔انچارج انوسٹی گیشن ٹیم نے بتایا کہ جج کی ویڈیو کا فورنزک کرایا گیا اور وہ جینوئن ثابت ہوئی ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اتنے سال گزرنے کے بعد جج کو معلوم ہوا کہ اسے نشہ آور شے پلا کر ویڈیو بنائی گئی تھی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یا تو جج ویڈیو کو جعلی قرار دے کر اس سے انکار کرتا، مگر یہاں تو جج خود بھی تسلیم کر رہا ہے کہ ویڈیو جینوئن ہے تو پھر اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جوڈیشل افسر اپنا مس کنڈکٹ تسلیم کر رہا ہے، کیا کوئی جج یہ موقف اختیار کر سکتا ہے کہ اسے نشہ آور شے پلا کر ایسی ویڈیو بنائی گئی، جوڈیشل افسر کا یہ اعتراف تو خود ہمارے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ نے ملزمان کو گرفتار کر لیا، کیا آپ نے جج کا بیان ریکارڈ کیا؟ کیا ایف آئی اے کی تفتیش کا یہ معیار ہے ؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ جج کسی کے گھر گیا ہی کیوں تھا کہ اس کی ایسی ویڈیو بنائی گئی،تفتیش کر کے منگل تک تفصیلی رپورٹ دیں تاکہ ملزم کی ضمانت پر فیصلہ کریں۔وکیل ملزم میاں طارق نے کہا کہ ملزم کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دائر کی، اس کی تازہ میڈیکل رپورٹ بھی طلب کی جائے،جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہپہلے تفتیش کی مکمل رپورٹ آنے دیں، پہلے اس کو میرٹ پر دیکھیں گے۔اس کے بعد عدالت نے ملزم میاں طارق محمود کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر سماعت 21 مئی تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…