پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بیرونی قرضوں کی سروسنگ کم ہو کر 2.72 ارب ڈالر ہوگئی

datetime 13  مئی‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں بیرونی قرضوں کی سروسنگ دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں 30 فیصد کمی آئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت نے جنوری سے مارچ کے دوران دوسری سہ ماہی کے 3 ارب 90 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں تیسری سہ ماہ میں بیرونی قرضے کی

سروسنگ کی مد میں 2 ارب 72 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ادا کیے۔رواں مالی سال حکومت نے بیرونی قرضوں کی سروسنگ کی مد میں 11 ارب 58 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ادا کیے جس میں 2 ارب 95 کروڑ ڈالر سود بھی شامل ہے۔حکومت نے مالی سال کی تین سہ ماہیوں میں قرضے کی سروسنگ کی مد میں مجموعی طور پر 9 ارب 71 کرور 30 لاکھ ڈالر ادا کیے۔مالیاتی ماہرین کو رواں مالی سال کے اختتام تک سروسنگ کی مجموعی لاگت 12 سے 13 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔حکومت نے جی-20 ممالک سے مئی سے جون 2021 تک ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کے قرضے کی ری شیڈولنگ کی درخواست کی ہے۔بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے بھی کورونا وائرس کے باعث عالمی رہنماؤں سے غریب ممالک کو قرضوں میں ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کے باوجود قرضوں کی سروسنگ ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ پر اثرات مرتب کرتی ہے۔گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 10 ارب 28 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں جولائی سے مارچ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 2 ارب 76 کروڑ ڈالر ہوگیا۔مزید برآں رواں مالی سال میں ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی بہتری آئی ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی 5.5 فیصد اضافہ ہوا۔خیال رہے کہ مالی سال 19-2018 کے دورانحکومت نے بیرونی قرضوں کی سروسنگ کی مد میں 11 ارب 55 کروڑ ڈالر ادا کیے جو اس سے ایک برس قبل کے دوران تقریباً 54 فیصد رہا تھا۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 26 اگست، 2019 کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے اصل رقم کی مد میں 8 ارب 65 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ادا کیے جبکہ 2 ارب 93 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود ادا کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…