ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

کراچی،بغیر نمبر پلیٹ کی پولیس موبائل میں سوار پولیس اہلکاروں کی ڈکیتی نما کارروائی ،کتنے لاکھ روپے کے قریب رقم لوٹ کر فرار ہو گئے

datetime 9  مئی‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)کراچی سائٹ کے علاقے نیوگلشن لیبر کالونی میں بغیر نمبر پلیٹ کی ایک پولیس موبائل میں سوار پولیس اہلکار ڈکیتی نما کارروائی کرکے لگ بھگ چار لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے، حراست میں لیے گئے دکاندار کو کچھ دیر بعد چھوڑ دیا۔سائٹ بی ایریا تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر زوار حسین کے مطابق یہ پولیس موبائل ان کے علاقے کی نہیں ہے بلکہ نامعلوم نمبر پلیٹ کی یہ گاڑی کسی

اور علاقے سے یہاں آئی ہے اور ٹارگٹڈ واردات کی گئی ہے۔ڈکیتی طرز کی کارروائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک پولیس موبائل میں سوار اہلکار نیو گلشن لیبر کالونی کی مقامی مارکیٹ میں آئے اور ایک دکان میں گھس گئے۔دکان کے مالک جاوید اختر کے مطابق چہرے چھپائے ہوئے پولیس اہلکاروں نے دکان کی تلاشی لی اور ان کے بھائی نوشاد کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور دکان سے تین لاکھ روپے لوٹ لیے۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار تین لاکھ روپے کی گڈیاں اٹھاتے اور اپنے ساتھ لے جاتے نظر آرہے ہیں۔نوشاد کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ان کے بھائی کو بھی حراست میں لیا تاہم اسے کچھ دور لے جا کر چھوڑ دیا اور اس کی جیب میں موجود 90 ہزار روپے بھی نکال لیے۔ جاوید نے سائٹ تھانے میں تحریری رپورٹ درج کرادی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے حوالے سے زوار حسین نے بتایاکہ رات کو دو بجے کے قریب نامعلوم پولیس موبائل پر چار نامعلوم پولیس اہلکاروں کی جانب سے نیو گلشن لیبر کالونی میں دائود کولڈ ڈرنک شاپ میں داخل ہونے اور نوشاد نامی شخص پر تشدد کرنے اور پیسے لینے کے حوالے سے تھانہ سائٹ بی میں ایف آئی آر نمبر 128/2020 زیر دفعہ 392/34 ت پ برخلاف نامعلوم چار پولیس اہلکاروں کیدرج کر کے تفتش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کو تلاش کیا جارہا ہے۔ کراچی پولیس میں شامل کالی بھیڑوں کی جانب سے یہ پہلی واردات نہیں ہے بلکہ آئے روز اس طرح کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…