پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ایمریٹس اسکائی کارگو نے ضروری سامان کی منتقلی کیلئے پاکستان میں اپنا آپریشن وسیع کرنے کا اعلان کردیا

datetime 5  مئی‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) ایمریٹس اسکائی کارگو پاکستان کے ساتھ اپنے غیر متزلزل تعلقات کی بنیاد پر اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ   COVID-19 کی عالمی  وباء  سے پیدا ہونے والے گنجائش اور آپریشن کے مسائل کے باوجود پاکستان سے اور پاکستان کیلئے ضروری سامان بشمول غذائی اور میڈیکل اشیاء  کی آمد و رفت جا ری رہے۔ اس دوران کارگو آپریٹر نے انڈسٹری میں دو نمایاں ریکارڈ بھی قائم کئے ہیں۔

ایئر کارگو آپریٹر بوئنگ777-300ER طیارے کو استعمال کر کے ہفتہ وار چار پروازیں لاہور کیلئے اور تین کراچی کیلئے چلا رہا ہے اور اس طیارے میں مسافروں کے بغیر 40 سے 50 ٹن وزن لانے کی گنجائش ہوتی ہے۔ ایمریٹس اسکائی کارگو کی کر اچی سے دبئی جانے والی دو پروازوں ایک 10 اپریل کو لوئر ڈیک میں 63 ٹن سامان لے کر جبکہ دوسری 15 اپریل کو لوئر ڈیک میں 62.7 ٹن سامان لیکر گئی ہے اور یہ انڈسٹری کا ایک ریکارڈ ہے۔  ایمریٹس اسکائی کارگو پاکستان سے لندن ، دبئی ، جدہ، ریاض ، بحرین اور مسقط کیلئے اپنے نیٹ ورک پر گوشت، مچھلی، سبزی، کپڑا، کوریئر کارگو اور سینیٹائزر س کی تسیل کر رہا ہے ۔ ایئر کار گو آپریٹر اہم طبی ساز و سامان جیسے کہ ادویات ، طبی آلات ، فیس ماسک، لیب ٹیسٹ کٹس اور دیگر سامان کی منتقلی فضائی کارگو پر کر رہا ہے۔  ایمریٹس اسکائی کارگو نے سیٹوں اور بالائی خانوں میں بھی تمام حفاظتی اقدامات پر عمل کرتے ہوئے اشیاء کی منتقلی کا انتظام کیا ہے۔ ایمریٹس کے پاکستان کے کارگو منیجر فیصل یعقوب نے کہا ’’ حالانکہ یہ مشکل حالات ہیں لیکن ایمریٹس اس صورتحال میں پاکستان کو معانت فراہم کرنے کا مکمل عزم رکھتا ہے۔ اپریل کے مہینے میں ہم نے پاکستان سے 935 ٹن کی برآمدات کی ہیں جبکہ پاکستان کیلئے دیگر ممالک سے 705 ٹن ادویات اور دیگر لازمی طبی سامان دنیا کے دوسرے ممالک سے لیکر آئے ہیں۔  ہماری دو مصنوعات ایمریٹس فارما اور ایمریٹس فریش کی بدولت ہم نے اس بات کو یقینی بنیا ہے کہ سفر کے آغاز سے اختتام تک حساس درجہ حرارت والی مصنوعات کی ترسیل درست درجہ ھرارت پر کریں کیونکہ ہم ادویات اور کم معیاد والی اشیاء کی بروقت ترسیل کیلئے عالمی سطح پر ایک سر فہرست ادارہ ہیں۔ مسافروں کی سروس میں آنے والے تعطل کی وجہ سے ہماری گارگو کی گنجائش پر بھی منفی اثر آیا ہے لیکن پھر بھی ہم پاکستان کیلئے لازمی اشیاء کی نقل و حمل کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے یقینی بنا  رہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…