پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

کون سے وٹامن کی کمی کووڈ 19 کے مریضوں میں ہلاکت کا خطرہ بڑھاتی ہے؟برطانیہ میں ہونے والی طبی تحقیق میں اہم انکشاف

datetime 2  مئی‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)وٹامن ڈی کی کمی ممکنہ طور پر نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے موت کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔کوئی ایلزبتھ ہاسپٹل فاؤنڈیشن اور ایسٹ اینگیلا یونیوروسٹی کی اس تحقیق کے نتائئج سے اس خیال کو تقویت ملی ہے کہ وٹامن ڈی اور کورونا وائرس کی شدت کے درمیان تعلق موجود ہے۔

اس تحقیق میں یورپ بھر میں اموات کی بلند شرح کا تعلق وٹامن ڈی کی کمی سے جوڑا گیا ہے۔اس سے قبل یورپ بھر میں 20 ممالک کے شہریوں میں اوسط وٹامن ڈی کی شرح کا ڈیٹا جاری کیا گیا تھا اور اس تحقیق میں اس ڈیٹا کا موازنہ ان ممالک میں کووڈ 19 سے ہونے والی اموات سے کیا گیا۔تحقیق کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی اور اموات کی تعداد میں نمایاں تعلق موجود ہے کیونکہ جن ممالک میں اس بیماری سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، وہاں کے شہریوں میں وٹامن کی شرح بھی سب کم تھی۔محققین کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ گروہ وہ ہے جس میں وٹامن ڈی کی بھی سب سے زیادہ کمی ہے۔اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ آن لائن جاری کیے گئے ہیں تو اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔اس سے قبل رواں ہفتے ہی آئرلینڈ لے ٹرینینٹی کالج کی ایک تحقیق میں بھی اسی طرح کے نتائج ظاہر کیے گئے تھے۔ٹرینیٹی کالج کی تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی ایسا کردار ادا کرسکتا ہے جو نظام تنفس کے انفیکشنز کی روک تھام، اینٹی بائیوٹک کی ضرورت کو کم جبکہ امراض کے خلاف مدافعتی نظام کے ردعمل کو بہتر بناتا ہے۔اس تحقیق میں دنیا کے مختلف حصوں میں کووڈ 19 سے ہونے والی اموات اور وٹامن ڈی کی سطح کو دیکھا گیا۔انہوں نے دریافت کیا کہ کچھ ممالک جیسے آسٹریلیا میں کووڈ 19 سے اموات کی شرح کم ہے جبکہ وہ ممالک جہاں کے شہریوں میں وٹامن ڈی کی کمی کا مسئلہ زیادہ ہے۔

وہاں کووڈ 19 کے مریضوں میں سنگین قسم کا ورم والا ردعمل سامنے آیا۔محققین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی سورج کی روشنی میں کم گھومنے، عمر میں اضافے، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپے جیسے عناصر کا نتیجہ ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں کووڈ 19 کی شدت میں اضافے کا خطرہ بڑھتا ہے۔محققین کے مطابق ایسے ممالک جہاں سورج کی روشنی زیادہ ہوتی ہے وہاں اموات کی شرح نسبتاً کم ہے جبکہ وہ ممالک جہاں موسم سرما اور بہار میں سورج کی روشنی سے زیادہ وٹامن ڈی حاصل نہیں ہوتا، ان میں اموات کی شرح زیادہ ہے، جیسے اٹلی اور اسپین، جہاں کے شہریوں میں وٹامن ڈی کی کمی کا مسئلہ عام ہے۔

تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی ورم کے خلاف اس ردعمل کو ریگولیٹ اور دبانے کے لیے ضروری ہے جو کووڈ 19 میں سنگین نتائج میں کردار ادا کرتا ہے اور وینٹی لیٹر اور اموات کا خطرہ بڑھاتا ہے۔محققین کے مطابق اس حوالے سے مزید تحقیق کی فوری ضرورت ہے تاکہ وٹامن ڈی اور کووڈ 19 کی شدت کے درمیان تعلق کو ثابت کیا جاسکے جبکہ دنیا بھر میں حکومتوں کو اس وٹامن کے سپلیمنٹس کے استعمال پر زور دینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ غذا (جیسے مچھلی، پنیر، انڈے کی زردی اور کلیجی)اور سپلیمنٹ کے ذریعے بھی دوران خون میں وٹامن ڈی کی سطح کو بڑھایا جاسکتا ہے، یہ وٹامن ہڈیوں، مسلز اور مدافعتی نظام کی صحت کے لیے مفدی ہے اور اس مدافعتی ردعمل کی ششدت کو کم کرسکتا ہے جو کووڈ 19 کی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…