بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

’’لوگوں کو ’’کرونا‘ ‘سے بچائیں گے تو وہ بھوک سے مرجائیں گے‘‘ وزیر اعظم نے عالمی برادری سے ریلیف پیکج دینے کی اپیل کردی

datetime 12  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان سے اپیل کی ہے کہ وہ کوروناوائرس سے نمٹنے کیلئے ترقی پذیر ممالک کی مدد کریں اور انہیں قرضوں میں ریلیف دیں،کورونا کے ساتھ لوگوں کے بھوک سے مرنے کا بھی خدشہ ہے، صورتحال سے نکلنے کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، ہمارے پاس وسائل نہیں کہ

صحت پر زیادہ خرچ کر سکیں، لوگوں کو بھوک سے بچانے کیلئے بھی وسائل کی کمی ہے،وائرس سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا کو مل کر کام کرنا ہوگا عالمی ادارے ترقی پذیرممالک کو قرضوں پر ریلیف دیں۔اتوار کو بین الاقوامی برادری سے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کی صورتحال سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے تاہم ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اس حوالے سے الگ طرح کا ردعمل آیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ترقی یافتہ ممالک کے پاس وسائل اور پیسے کی کمی نہیں ہے اور وہ بھاری رقم خرچ کر کے صورتحال کا مقابلہ کر رہے ہیں لیکن ترقی پذیر ممالک میں لاک ڈاؤن اور معاشی سرگرمیاں نہ ہونے سے عوام کو بھوک اور شدید معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جاپان نے ایک ٹریلین ڈالر، جرمنی نے ون ٹریلین یوروز، امریکہ نے 2.2ٹریلین کا پیکج دیا ہے لیکن پاکستان جیسا ملک جس کی 22کروڑ آبادی ہے، کے پاس وسائل کی کمی ہے اس کے باوجود ہماری حکومت 8ارب ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں، عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں ریلیف فراہم کریں کیونکہ ترقی پذیر ممالک کو دوہرے مسائل کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ ایک طرف کورونا وائرس سے اپنی عوام کو بچا رہے ہیں اور دوسری جانب معاشی صورتحال اور لاک ڈاؤن کے باعث اپنے لوگوں کو بھوک سے بھی بچا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو مسئلہ پاکستان کو درپیش ہے اکثر ترقی پذیر ممالک اس صورتحال سے دوچار ہیں، ہمارے پاس وسائل نہیں کہ صحت پر زیادہ خرچ کر سکیں۔ لوگوں کو بھوک سے بچانے کیلئے بھی وسائل کی کمی ہے اس صورت میں عالمی ادارے ترقی پذیر ممالک کے اس مسئلے کی طرف بھی توجہ دیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…