منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وئرس کا اگلا بڑا نشانہ کون سا خطہ بن سکتاہے؟ عالمی ادارہ صحت نے انتباہ کردیا

datetime 12  اپریل‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی )عالمی ادارہ صحت نے انتباہ کیا ہے کہ افریقہ کے دیہی علاقوں میں کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اگر براعظم افریقہ کے کمزور اور خستہ صحت کے نظام پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔ افریقہ میں اب تک 8300 کیسیز رجسٹر ہو چکے ہیں اور 400 کے قریب اموات ہوئی ہیں۔ اب تک دنیا میں جس بڑی تعداد میں کرونا پھیلا ہے۔

اس کے مقابلے میں یہ تعداد بظاہر کم نظر آتی ہے۔ تاہم یہ خطرہ موجود ہے کہ وائرس اس علاقے کو اپنے چنگل میں لے سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں عالمی ادار صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے انتباہ کیا کہ اگر افریقی ملکوں کو بر وقت بین الاقوامی مدد فراہم نہ کی گئی تو افریقہ میں یہ وبا قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 16 افریقی ملکوں کے الگ الگ حصوں میں اس وائرس کی موجودگی کی اطلاعات ملی ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے بارے میں ہمیں زیادہ فکر ہے، کیوں کہ وہاں صحت کا نظام پہلے ہی ناکافی اور کمزور ہے۔ شہروں کے مقابلے میں دیہی علاقے ضروری طبی سہولتوں سے محروم ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ یورپ میں جس شدت سے اس وائرس نے حملہ کیا تھا، اس میں اب جزوی کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جنہوں نے الگ تھلگ رہنے اور سماجی فاصلے کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا۔ اس طرح سے انہوں وائرس کو ایک دوسرے منتقل ہونے نہیں دیا۔ٹیڈروس کے مطابق ان اقدامات کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ تاہم انہوں اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بعض ملک ان پابندیوں کو نرم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ان کا ادارہ بھی ان پابندیوں کو ختم کرنے کے حق میں ہے، لیکن قبل از وقت ایسا کرنے سے اس وبا کا دوسرا ریلا سخت ہلاکت خیز ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس نے کہا کہ پابندیوں کو ہٹانے سے قبل مغربی ملکوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ وبا پر مکمل طور سے قابو پا لیا گیا ہے۔ اس کے انسداد کے لیے مناسب طبی سہولتیں موجود ہیں اور نرسنگ ہومز جیسے خصوصی مقامات میں اس وبا کے دوبارہ پھیلنے کے امکانات کم سے کم ہو گئے ہیں۔ٹیڈروس نے کہا اس عالم گیر وبا کو پھیلنے سے روکنے میں دنیا کے ہر فرد کا کردار ہے اور حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام میں اس مرض سے بچنے کے بارے میں زیادہ زیادہ سے زیادہ آگہی پیدا کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…