بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

کورونا کی وجہ سے ایک دم لاک ڈاؤن کردیا گیا جس سے غربت اور بیروزگاری بڑھی، ملکی معیشت کو بھی بہت نقصان ہوا، وزیراعظم خان کا کرونا سے متعلق قوم کو اہم پیغام

datetime 10  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک دم لاک ڈاؤن سے ملک میں غربت میں اضافہ ہوا، لوگ بیروزگار اور دیہاڑی دار تنگ ہیں،لاک ڈاؤن کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں، اس سے ملکی معیشت کو بھی بہت نقصان ہوا، اثرات بہت دیر تک رہیں گے،2 ہفتے میں 144 ارب روپے مستحقین میں تقسیم کرنا ہیں، حالات مزید بگڑیں گے تو فنڈز جمع کیے جارہے ہیں،کوروناوائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے،

اس لیے احتیاط کی ضرورت ہے، کیسز بڑھنے پر ہسپتالوں پر دباؤ بڑھے گا، اتنے وینٹی لیٹر نہیں کہ کیسز بڑھنے پر 5 فیصد افراد کو رکھ سکیں،ا قوم جتنا احتیاط کرے گی کورونا اتنی کم رفتار سے پھیلے گا،بدقسمتی سے صحت کے شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، کیا جو ملک ائٹم بم بنا سکتا ہے کہ وہ وینٹی لیٹر نہیں بنا سکتا؟۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ 2 ہفتے میں 144 ارب روپے مستحقین میں تقسیم کرنا ہیں، حالات مزید بگڑیں گے تو اس لیے فنڈز جمع کیے جارہے ہیں تاکہ مشکل وقت میں لوگوں کی مدد کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے، اس لیے احتیاط کی ضرورت ہے، کیسز بڑھنے پر ہسپتالوں پر دباؤ بڑھے گا، اتنے وینٹی لیٹر نہیں کہ کیسز بڑھنے پر 5 فیصد افراد کو رکھ سکیں لہٰذا قوم جتنا احتیاط کرے گی کورونا اتنی کم رفتار سے پھیلے گا۔انہوں نے کہاکہ شروع میں ایک دم فیصلے ہوئے اور ایک صوبہ مکمل لاک ڈاؤن کی طرف چلاگیا جس سے میں متفق نہیں تھا کیوں کہ 22 کروڑ افراد کو لاک ڈاؤن کرنے کی کوشش ناممکن چیز ہے، یورپ اور امریکا سے یہاں کے حالات مختلف ہیں۔عمران خان نے کہا کہ 26 کیسز آنے پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا،کسی کا انتقال بھی نہیں ہوا تھا، جیسے جیسے کورونا کاڈیٹا آتا رہتا اس کے مطابق چلتے رہتے تاہم ایک دم لاک ڈاؤن سے ملک میں غربت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ غریب بستیوں میں لوگوں کو سماجی دوری کا کہنا ناممکن ہے، اْن بستیوں میں ہاتھ دھونے اورپینے کا صاف پانی نہیں ہے،

غریب آبادیوں میں ایک کمرے میں 8، 8 لوگ رہتے ہیں تو کیسے سماجی فاصلے کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے اور کرکٹ میچز کے اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی تھی جبکہ چھابڑی والے، چھوٹی دکانیں اور رکشے والے بھی بند کردئیے۔وزیراعظم نے لاک ڈاؤن کو غربت کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک دم لاک ڈاؤن سے ملک میں غربت میں اضافہ ہوگیا ہے، لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں اور دیہاڑی دار تنگ ہیں۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں ملک کے نچلے طبقے کیلئے سوچا نہیں گیا، دوسرے ملکوں میں لیبر رجسٹرڈ ہوتے ہیں لیکن یہاں ایسا نہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے 2200 اور جاپان نے ایک ہزار ارب ڈالر کا پیکج جبکہ پاکستان نے 8 ارب کا پیکج دیا ہے،ہم نے ہسپتالوں پر جتنا خرچ کرنا چاہیے تھا،

اتنا نہیں کیا۔وزیر اعظم نے کہاکہ پیسے کی تقسیم میں کوئی سفارش کوئی سیاسی وابستگی نہیں چلتی۔ ہم سب سے مستحق لوگوں کو پہلے دے رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ ہماری طاقت نوجوان آبادی ہے اس وبا کے خلاف جنگ کا ساری قوم کے ساتھ مل کر ہی مقابلہ ہو سکتا ہے۔وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے صحت کے شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، کیا جو ملک ائٹم بم بنا سکتا ہے کہ وہ وینٹی لیٹر نہیں بنا سکتا؟ ہمارے ملک میں کٹس یا ماسک بنانا کوئی مشکل نہیں تھا لیکن ہمیں ہر چیز باہر سے منگوانے کی عادت پڑی ہوئی ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ جب بھی ملک پر کوئی اٰفت آئی تو پاکستانیوں نے بڑھ کر مدد کی،2005ء کے زلزلے اور جب سیلاب آیا، اس میں میں نے کام کیا تھا، فنڈز اس لئے اکٹھا کیا جا رہا ہے کہ مشکل وقت میں لوگوں کی مدد کر سکیں۔انہوں نے عوام سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ایک دم اتنے کیس بڑھ جائیں تو امیر ترین ملک بھی سنبھال نہیں سکتے۔انہوں نے کہاکہ کوئی نہیں کہہ سکتا 2 سے 6 مہینے کے بعد کیا ہوگا،ہمیں مسلسل جدوجہد جاری رکھنی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…