بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

کرونا وائرس سے پریشان حال عوام کیلئے وزیراعظم عمران خان نے غریب طبقے کیلئے انتہائی شاندار اعلان کر دیا

datetime 10  اپریل‬‮  2020 |

پشاور (این این آئی)وزیراعظم عمران خان کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے دورہ کے موقع پر بتایاگیا ہے کہ صوبہ بھر میں 275 قرنطینہ سنٹر بنائے گئے ہیں جن میں کل 18000 افراد کی گنجائش موجود ہے،وزیر اعلی نے صوبائی سطح پر حال ہی میں 32 ارب کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے، صوبہ بھر میں 583 وینٹی لیٹر موجود ہیں جن کی تعداد کو مزید بڑھایا جا رہا ہے،ایمرجنسی کے تحت

صوبہ میں 638 ریگولر اور 1299 کنٹریکٹ اضافی ڈاکٹر بھرتی کیے گئے ہیں،9000 ریٹائرڈ ڈاکٹرز، نرسیں اور پیرامیڈک اسٹاف نے رضاکاروں کے طور پر رجسٹریشن کرائی ہے جن کو بوقت ضرورت بلایا جائیگا، صوبے میں سرکاری سطح پر 400 ریپیڈ رسپانس ٹیمیں بنائی گئی ہیں،کوروناٹیسٹنگ کی استعدادکو بڑھایا جا رہا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کی توجہ وباء پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ کمزور اور غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے،وفاقی حکومت اس وبا پر قابو پانے کیلئے تمام صوبوں کی بھر پور معاونت کر رہی ہے اور یہ تعاون جاری رہے گا۔ جمعہ کو وزیر اعظم عمران خان نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا دورہ کیا ،وفاقی وزیر اسد عمر، وزیر مملکت شہریار آفریدی، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان اور وزیر اعلی محمود خان، صوبائی وزیر صحت بھی ہمراہ ان کے تھے ۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے کورونا وباء کے پیش نظر صوبائی حکومت کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبہ خیبر خیبر پختونخوا کے چھ اضلاع میں کورونا وائرس کی وبا دیگرعلاقوں کی نسبت زیادہ پائی گئی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیاکہ صوبائی حکومت کی جانب سے 3 فروری کو کورونا ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی، گورنر، وزیر اعلیٰ، وزیر صحت اور اعلی حکام روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔بریفنگ میں آگاہ کیا گیاکہ

صوبہ بھر میں 275 قرنطینہ سنٹر بنائے گئے ہیں جن میں کل 18000 افراد کی گنجائش موجود ہے،وزیر اعلی نے صوبائی سطح پر حال ہی میں 32 ارب کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے۔وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ صوبہ بھر میں 583 وینٹی لیٹر موجود ہیں جن کی تعداد کو مزید بڑھایا جا رہا ہے، ایمرجنسی کے تحت صوبہ میں 638 ریگولر اور 1299 کنٹریکٹ اضافی ڈاکٹر بھرتی کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ 9000 ریٹائرڈ ڈاکٹر، نرسیں اور پیرامیڈک اسٹاف نے رضاکاروں کے طور پر رجسٹریشن کرائی ہے جن کو بوقت ضرورت بلایا جائے گا۔ صوبے میں سرکاری سطح پر 400 ریپیڈ رسپانس ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوروناٹیسٹنگ کی استعدادکو بڑھایا جا رہا ہے ضلعی انتظامیہ کو اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں تاکہ عوام کی سہولت کے لیے اقدامات لیے جاسکیں۔وزیر اعظم نے

صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہاکہ موجودہ صورتحال میں حکومت کی توجہ وباء پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ کمزور اور غریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت اس وبا پر قابو پانے کے لئے تمام صوبوں کی بھر پور معاونت کر رہی ہے اور یہ تعاون جاری رہے گا۔ وزیر اعظم نے گورنر ، وزیراعلی اور متعلقہ وزراء کو ہدایت کی کہ وہ صوبے کے متاثرہ علاقوں کا خود دورہ کریں اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…