بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

سیاہ فاموں کو غلام بنانا اب بھی ہمارے ڈی این اے میں ہے: اوباما

datetime 23  جون‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکی صدر براک اوباما نے ایک ریڈیو انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ امریکی تاریخ پر سیاہ فاموں کو غلام بنانے کا سایہ چھایا ہوا ہے اور ’یہ اب بھی ہمارے ڈی این اے میں موجود ہے‘۔صدر اوباما نے یہ بات ساؤتھ کیرولائنا میں فائرنگ کے واقعے کے بعد دیا جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ مبینہ طور پر نسلی امتیاز کا نتیجہ ہے۔صدر اوباما نے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو نسلی امتیاز کو شکست دینی ہو گی۔’نسلی امتیاز سے ہمیں چھٹکارا نہیں ملا۔ تہ معاملہ صرف یہ نہیں کہ پبلک میں لفظ نیگر نہ بولا جائے کیونکہ یہ لفظ بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔‘بطور صدر یہ پہلا موقع ہے کہ اوباما نے لفظ نیگر استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے اپنی کتاب ’Dreams from my Father‘ میں یہ لفظ استعمال کیا تھا لیکن وہ اس وقت صدر نہیں تھے۔واضح رہے کہ لفظ ’نیگر‘ سیاہ فام افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس لفظ کے استعمال کو توہین آمیز سمجھا جاتا ہے۔انٹرویو میں اوباما نے کانگریس پر تنقید کی کہ اس نے اسلحے کے بارے میں سخت قوانین نہیں بنائے۔’یہ محض واضح امتیاز کا مسئلہ نہیں ہے۔ معاشرے 200 یا 300 سال قبل ہونے والے واقعات کو راتوں رات مٹا نہیں سکتا۔‘یاد رہے کہ ساؤتھ کیرولائنا کے علاقے چارلسٹن میں ایک افریقی امریکن چرچ پر ایک شخص نے فائرنگ کی تھی جس میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔جس شخص نے مبینہ طور پر اس چرچ پر فائرنگ کی تھی اس نے ایک تصویر میں کنفیڈریٹ پرچم اٹھایا ہوا ہے۔ کنفیڈریٹ پرچم جنوبی ریاستوں نے سول جنگ کے دوران استعمال کیا تھا جب ان ریاستوں نے غلامی کے خاتمے کے خلاف دیگر ریاستوں سے علیحدہ ہونے کی کوشش کی تھی۔کنفیڈریٹ پرچم ساؤتھ کیرولائنا کے دارالحکومت میں اب بھی لرا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد سے ریاست میں بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ پرچم لہرانے دیا جائے یا اس کو اتار لیا جائے۔صدر اوباما نے اپنے انٹرویو میں ریاست میں لہرائے جانے والے پرچم کا تو ذکر نہیں کیا لیکن اتنا ضرور کہا کہ اس قسم کے پرچم عجائب گھروں میں ہونے چاہیے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…