اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا کا شکار ہیں ان بچوں کو فریش بلڈ لگایا جاتا ہے، اگر لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوتا تو یہ بچے خدانخواستہ دنیا میں نہیں رہیں گے‘ چناں چہ یہ بچے اب کیا کریں گے؟ دوسرا سوال یہ بچے کس کی ذمہ داری ہیں؟ کیا یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں ہیں؟

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’اوئے مختاریا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔تھیلیسیمیا دنیا کے خوف ناک ترین امراض میں شامل ہے‘ یہ مرض اللہ جس کو لگا دے اس بے چارے کی زندگی پھر زندگی نہیں رہتی‘ تھیلیسیمیا کے مریض عموماً بچے ہوتے ہیں‘ یہ دوسروں کے خون کے محتاج ہوتے ہیں‘ مہینے میں انہیں کم از کم خون کی چار بوتلیں لگتی ہیں اور خون کہاں سے آتا ہے؟ ڈونرز دیتے ہیں‘

این جی اوز یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جاتی ہیں‘ لوگوں سے خون کی اپیل کرتی ہیں‘ خون جمع ہوتا ہے اور سکریننگ کے بعد مریض بچوں کو لگا دیا جاتا ہے۔ بچوں کو اگر خون نہ ملے تو بے چارے سسک سسک کر مر جاتے ہیں‘ پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا کا شکار ہیں‘ یہ بری طرح دوسروں کے خون کے محتاجہیں‘ تھیلیسیمیاکے بچے نوول کرونا کا پہلا شکار ثابت ہوئے‘ ملک میں لاک ڈاؤن ہوااور سوسائٹی کا سائیکل ٹوٹ گیا‘ خون دینے اور خون جمع کرنے والے دونوں گھروں میں محصور ہو گئے چناں چہ لاکھ بچے سسکنے لگے‘ بچوں کے لواحقین اس وقت حکومت‘ این جی اوز اور عام لوگوں کی منتیں کر رہے ہیں لیکن ان کے لیے خون کا بندوبست نہیں ہو رہا‘ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں تھیلیسیمیا کے بچوں کو فریش بلڈ لگایا جاتا ہے‘ لوگ خون دیتے ہیں اوریہ خون بچوں کو لگا دیا جاتا ہے‘ لاک ڈاؤن میں ظاہر ہے یہ ممکن نہیں رہتا چناں چہ اللہ رحم کرے ہم کرونا کے ہاتھوں بچ پاتے ہیں یا نہیں لیکن یہ طے ہے اگر لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوتا تو یہ بچے خدانخواستہ دنیا میں نہیں رہیں گے‘ تھیلیسیمیا کی ادویات بھی مارکیٹ سے ختم ہو چکی ہیں‘ یہ بیرون ملک سے آتی ہیں اور فضائی اور زمینی راستوں کی بندش کی وجہ سے سپلائی چین ٹوٹ چکی ہے چناں چہ یہ بچے اب کیا کریں گے؟ دوسرا سوال یہ بچے کس کی ذمہ داری ہیں؟ کیا یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں ہیں؟ میں سو فیصد ریاست کو ذمہ دار سمجھتا ہوں‘ ریاست نے کبھی ان بچوں کو اپنا بچہ نہیں سمجھا‘ حکومت نے آج تک ان کے لیے کوئی پالیسی نہیں بنائی تھی۔میری حکومت سے درخواست ہے یہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کو کسی محکمے کے حوالے کر دے‘ یہ بے شک انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جھولی میں ڈال دے‘ کرکٹ بورڈ ہی ان کے لیے کوئی پالیسی بنا دے‘ یہ ان کے لیے خون کی سپلائی چین بنا دے‘ یہ والنٹیئرز ڈاکٹر لے اور ایس او پیز بنا دے تاکہ ملک میں اگر مستقبل میں کبھی کرفیو لگے گا یا لاک ڈاؤن ہو تو بھی ان بچوں تک فریش خون پہنچتا رہے گا‘ خواہ یہ وزیراعظم کے طیارے کے ذریعے بھجوایاجائے یا پھر چیف جسٹس آف پاکستان کی گاڑی میں لیکن تھیلیسیمیا کا کوئی بچہ خون کی کمی کا شکار نہیں ہوناچاہیے‘ ہم اگر کرونا کے اس لاک ڈاؤن کے دوران یہ ہی سیکھ لیں تو کمال ہو جائے گا‘ کرونا ہمیں کچھ نہ کچھ سکھا کر ہی جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…