پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں کورونا سے 8 ہلاکتیں، کیسز کی مجموعی تعداد 1100 سے بھی تجاوز، صرف کتنے صحت یاب ہوئے؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 26  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان میں کورونا سے 8 ہلاکتیں، کیسز کی مجموعی تعداد 1100 سے بھی تجاوز کرگئی۔جمعرات کوپاکستان میں اب تک کورونا وائرس کے 25 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد پاکستان میں مجموعی کیسز کی تعداد 1102 تک جا پہنچی ہے ، 8 افراد وائرس سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ایک روز قبل راولپنڈی میں زیر علاج خاتون انتقال کرگئی تھیں، خاتون بیرون ملک سے وطن واپس آئی تھیں اور 21 مارچ سے زیر علاج تھیں۔خاتون کے انتقال سے پنجاب میں کورونا سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 2 ہوگئی تھی اس سے قبل خیبرپختونخوا میں 3، بلوچستان، گلگت بلتستان اور سندھ میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔پاکستان میں مہلک وائرس سے اب تک 22 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جن میں سے 14 کا تعلق سندھ، 6 کا گلگت بلتستان اور 2 کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔جمعرات پاکستان میں کورونا کے اب تک 25کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے بلوچستان میں 12، اسلام آباد میں 9 اور سندھ میں 4 کیسز رپورٹ ہوئے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا کے مزید 9 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان کیسز کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔سرکاری پورٹل پر 9 کیسز میں اضافے کے بعد اسلام آباد میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق صوبائی محکمہ صحت نے بتایا کہ بلوچستان میں کورونا وائرس کے مزید 12 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد مصدقہ کیسز کی تعداد 131 ہوگئی ہے ، سرکاری پورٹل پر بھی مجموعی کیسز کی یہی تعداد بتائی گئی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے متعلق کیے گئے 165 ٹیسٹ کے نتائج آنا باقی ہیں۔ سندھ میں 4 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان کی جانب سیان کیسز کی تصدیق نہیں کی گئی۔سندھ میں 4 نئے کیسز کے بعد صوبے میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 417 ہوگئی ہے،سندھ میں 14 افراد مہلک وائرس سے صحتیاب ہوئے ہیں جن میں سے 13 کا تعلق کراچی اور ایک کا حیدرآباد سے ہے ، ایک مریض انتقال کرچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…