پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

تفتان بارڈر پر زائرین کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ گئی، پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کیسز دگنے ہوگئے، ڈاکٹر ظفر مرزا نے حقیقت سامنے رکھ دی

datetime 11  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد/ چمن(این این آئی)ایران سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد تفتان بارڈر پر قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔تفتان انتظامیہ کے مطابق ایران سے مزید 184 پاکستانی تفتان پہنچ گئے ہیں جس کے بعد تفتان بارڈر پر قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ گئی ہے جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

تفتان بارڈر پر زائرین کو 4 قرنطینہ میں رکھا گیا محکمہ صحت کے مطابق وائرس کے شبہ میں ٹیسٹ کے لئے موبائل لیب بھی تفتان پہنچ گئی جس کو ایک مخصوص جگہ پر منتقل کیا گیا ہے۔دوسری جانب پاک افغان بارڈر دسویں روز بھی بند رہا، سیکورٹی حکام کے مطابق باب دوستی سے ہر قسم کی دو طرفہ آمدورفت معطل رہی اور سرحد کے دونوں جانب سیکورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ پاک افغان دوطرفہ تجارت، نیٹو سپلائی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور سینٹرل ایشیا کے ساتھ بھی تجارت معطل رہی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے کیسز دگنے ہوچکے ہیں تمام کیسز بیرون ملک سے آئے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ یہ حیرت کی بات نہیں 106 ممالک میں یہ بیماری پھیل چکی ہے تاہم ابھی تک مقامی سطح پر اس کے پھیلنے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں، اگر ہم ذمہ داری سے کام کریں تو ہم پھیلاؤ سے بچ سکتے ہیں۔معاون خصوصی برائے صحت نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملکر عوام کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں، رپورٹ ہونے والے نئے کیسز کی بہترین طبی نگہداشت کی جارہی ہے لہذا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…