جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

امیگریشن آفیسرز کی جگہ روبوٹس لے لیں گے

datetime 21  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک ) فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جاری ائر شو کے موقع پر ائر پورٹس کے لیے ایسی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے، جس کی مدد سے امیگریشن آفیسرز کی جگہ روبوٹس لے لیں گے جبکہ بائیو میٹرک ڈیٹا جرائم پشیہ افراد کی شناخت مزید آسان اور تیز تر بنا دے گا۔ پیرس ائر شو کے دوران فرانسیسی الیکٹرک سسٹم کمپنی تھالیز (THALES) نے ایک ایسا نیا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے باعث ائر پورٹس پر مسافروں کی نقل و حرکت تیز اور آسان ہو جائے گی۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مسافر تیزی کے ساتھ چیک ان اور چیک آو¿ٹ کر سکیں گے۔ تھالیز کے مطابق اس نئے الیکٹرک نظام کی بدولت مستقبل میں کسی مسافر کو چیک ان ڈیسکوں پر انتظار کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے، جو متعدد ہوائی اڈوں پر کامیابی کے ساتھ استعمال کی جا رہی ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر اور مو¿ثر بناتے ہوئے اب تھالیز نے ایک ایسی مشین تیار کی ہے، جو نہ صرف پاسپورٹ اسکین کرنے اور بورڈنگ پاس جاری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ مسافروں کے چہروں اور آنکھوں کی پتلیوں کی تصاویر بھی لیتی ہے۔ یہ معلومات پھر بہت تیزی کے ساتھ ائر پورٹ پر نصب مختلف کمپیوٹرز پر خود کار طریقے سے شیئر ہو جاتی ہیں۔ اس ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد جب مسافر امیگریشن ڈیسک پر پہنچتا ہے تو کمپیوٹر میں پہلے سے ہی جمع شدہ معلومات کو پرکھتے ہوئے ایک لمبا اور سفید رنگ کا روبوٹ کسی انسانی مدد کے بغیر ہی آٹو میٹک طریقے سے مسافر کی شناخت کرلیتا ہے۔ پیرس ائر شو کے دوران اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے والے تھالیز کے ایک اہلکار پاسکل زینونی نے اے ایف پی کو بتایا، ”ایسے پانچ یا چھ روبوٹس کو صرف ایک ایجنٹ ہی کنٹرول کر سکتا ہے۔ یوں ائر پورٹ پر موجود عملے میں کمی واقع ہو گی اور سکیورٹی اہلکاروں کو زیادہ جگہ مل سکے گی۔“ اس نظام کی تحت مسافر کی تصویر بورڈنگ پاس پر بھی منتقل ہو جائے گی اور گیٹ پر موجود سٹاف اسے سکین کر کے حتمی شناخت کا عمل مکمل کر لے گا۔ تھالیز کو امید ہے کہ وہ اپنی مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بائیو میٹرک پاسپورٹ اور شناختی عمل کا اپنا ایک نظام بنا لے گی۔ ابتدائی طور پر فرانس سمیت پچیس ممالک کے لیے یہ ٹیکنالوجی تیار کی جائے گی۔ دریں اثنائ پیرس ائر شو کے دوران ایک اور سٹال پر ایک اور کمپنی سافران نے مسافروں کے ڈیٹا کو محفوظ اور بہتر انداز میں آپریٹ کرنے کے ایک نئے نظام کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔ الیکٹرک سکیورٹی کے لیے کام کرنے والی فرانس کی ملٹی نیشنل کمپنی سافران کا ذیلی ادارہ مارفو ستمبر سے فرانس میں اس نظام کو آزمائشی بنیادوں پر شروع کر دے گا۔ اس نئے تجزیاتی نظام کے تحت روزانہ کی بنیادوں پر ڈھائی سو ائر لائنز پر سفر کرنے والے ایک سو ملین مسافروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔ اس نظام کا مقصد دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کی شناخت ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ مارفو نامی کمپنی اپنے بائیو میٹرک نظام کے تحت عالمی سطح پر جرائم پیشہ افراد کی شناخت کے حوالے سے ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ یہ کمپنی امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے علاوہ دیگر سکیورٹی کمپنیوں کو بھی معلومات فراہم کرتی ہے۔ پیرس ائر شو ایرو سپیس انڈسٹری کا سب سے بڑا ایونٹ تصور کیا جاتا ہے، جہاں اس سال پندرہ تا اٹھارہ جون دو ہزار سے زیادہ نمائش کنندگان نے اپنے اسٹال لگائے۔ اس شو کے منتظمین کے اندازوں کے مطابق تین لاکھ افراد اس نمائش کو دیکھنے کے لیے پیرس پہنچے، جن میں بین الاقوامی کمپنیوں، حکومتی اہلکاروں اور سکیورٹی ماہرین کے علاوہ عام شہری بھی شامل تھے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…