پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

عورت مارچ کیخلاف درخواست قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

datetime 6  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے عورت مارچ رکوانے کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔عورت مارچ رکوانے کے لیے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ہم عورت مارچ یا ان کے حقوق کے نہیں، ان کے پلے کارڈز اور سلوگنز کے خلاف ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ

عورت مارچ کے پلے کارڈز اور سلوگن اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے ریکارڈ پر کیا رکھا ہے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو، آپ نے آج کی وضاحت دیکھی ہے جو کل پریس کانفرنس میں جاری کی گئی؟انہوں نے کہا کہ وہ ان حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں جو انہیں نہیں دیے جا رہے، اس میں کہاں اسلام کے خلاف بات کی گئی ہے؟چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ان کے سلوگن تو وہی ہیں کہ جو اسلام نے ان کو حقوق دیے، ان کے سلوگنز کی کیا ہم اپنے طور پر تشریح کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ خاتون تھیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے کل پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اسلام میں دیئے گئے اپنے حقوق مانگ رہی ہیں، جب پریس کانفرنس میں بات واضح کر دی ہے تو ہم کیسے مختلف تشریح کر سکتے ہیں، آج پورے میڈیا میں ان کی کل کی پریس کانفرنس شائع ہوئی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ خواتین کو جو حقوق دیئے گئے ہیں میں ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔عدالت نے ان سے سوال کیا کہ کس نے بچیوں کو زندہ دفن کرنے کو ختم کرایا ہے؟وکیل نے جواب دیا کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بچیوں کو زندہ دفن کرنا ختم کرایا۔چیف جسٹس نے کہا کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں بچیوں کے پیدا ہونے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، یہ عورت مارچ تو ابھی ہونا ہے، آپ کی درخواست قبل از وقت ہے۔وکیل نے کہا کہ ہم آپ کو اپنی بات بتانے آئے ہیں اور آپ ہمیں اپنی باتیں سنا رہے ہیں، آپ وہ سلوگن دیکھ لیں جو پٹیشن کے ساتھ لگائے گئے ہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ضروری ہے کہ آپ اس عورت مارچ کو مثبت انداز میں دیکھیں، آپ اپنے طور پر ان کے سلوگنز کی تشریح کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ یہ بتائیں کہ ہم کتنی خواتین کو وراثتی حقوق دے رہے ہیں؟عدالتِ عالیہ نے عورت مارچ رکوانے کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…