جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں بھی کورونا وائرس کے 21کیس سامنے آ گئے،لوگوں میں خوف و ہراس

datetime 4  مارچ‬‮  2020 |

سرینگر(اے این این ) جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے 21 مشتبہ کیسز کی جانچ کی گئی ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی پازیٹو کیس سامنے نہیں آیا ہے۔مقبوضۃ جموں و کشمیر انتظامیہ کے پرنسپل سکریٹری روہت کنسل نے جموں میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کورونا وائرس کی جانچ پڑتال کے لیے جموں و کشمیر انتظامیہ متحرک ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 21 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئی ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی پازیٹیر کیس سامنے نہیں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اب تک مجموعی طور پر 201 افراد سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ان میں وہ افراد شامل ہیں جو یا تو چین، جنوبی کوریا، ایران ، تھائی لینڈ، اٹلی، جنوب مشرقی ایشیا جیسے ممالک کا سفر کرچکے ہیں یا ان ممالک کے سفر کرنے والے افراد سے رابطہ ہوا تھا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق عوام کو خوفزدہ نہ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے یقین دلایا کہ صحت کی مشینری سمیت پوری انتظامی مشینری کو مزید فعال کردیا گیا ہے اور وہ پوری طرح سے چوکس ہے اور تمام سہولیات کو ضرورت کے مطابق رکھا گیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق روہت کونسل نے کہا کہ ‘ چونکہ کورونا وائرس پوری دنیا میں تباہی مچا رہا ہے، انتطامیہ نے چین، ایران اور دیگر متاثرہ ممالک سے واپس آنے والے افراد کی مکمل جانچ پڑتال کو یقینی بنانے کے لیے سرینگر ایئرپورٹ پر اسکریننگ کا حکم دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…