جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اشرف غنی کو اہم شرط سے پیچھے ہٹنا گلے پڑ گیا افغان طالبان بھی بپھر گئے ، دوٹوک اعلان کر دیا

datetime 2  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے امریکا اور طالبان معاہدے کے تحت قیدیوں کو رہا نہ کرنے کے اعلان کے بعد طالبان نے بین الافغان مذاکرات میں شرکت نہ کرنے فیصلہ کرلیا۔جیونیوز کے مطابق 29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدہ ہوا تھا جس سے 18 سالہ جنگ کے خاتمے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

امن معاہدے میں ایک شرط یہ رکھی گئی تھی کہ 10 مارچ 2020 تک طالبان کے 5 ہزار قیدی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے ایک ہزار اہلکاروں کو رہا کیا جائے گا اور اس کے فوراً بعد افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان ملک کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے مذاکرات شروع ہوں گے۔معاہدے کے چند گھنٹوں بعد ہی افغان صدر نے طالبان کے قیدی رہا کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد اب افغان طالبان نے بھی بین الافغان مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی خبرایجنسی کو ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ طالبان قیدیوں کی رہائی تک انٹرا افغان مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ’اگر ہمارے 5000 قیدی جن میں سے 100 یا 200 کم یا زیادہ یہ معنی نہیں رکھتا، اگر ان کو رہا نہ کیا گیا تو مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے‘۔خیال رہے کہ دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہوگا جب کہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔اعلامیے کے مطابق امریکا اور افغانستان جامع امن معاہدے پر مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہیں، امن معاہدہ 4 نکات پر مشتمل ہے۔معاہدے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، 14 ماہ میں تمام امریکی اور نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلاء ہوگا، ابتدائی 135 روز میں امریکا افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد 8600 تک کم کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اتحادی افواج کی تعداد بھی اسی تناسب سے کم کی جائے گی۔معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔ 10 مارچ 2020 تک طالبان کے 5 ہزار قیدی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے ایک ہزار اہلکاروں کو رہا کیا جائے گا اور اس کے فوراً بعد افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہوں گے۔معاہدے کے مطابق امریکا طالبان پر عائد پابندیاں ختم کرے گا اور اقوام متحدہ کی جانب سے طالبان رہنماؤں پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر زور دے گا۔معاہدے کے تحت افغان طالبان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغان سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کیخلاف استعمال نہ ہو۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…