جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کو چیلنج، ایران میں مزارات کو بوسہ دینے اور چاٹنے کے ناقابل یقین مناظر،ویڈیووائرل

datetime 2  مارچ‬‮  2020 |

تہران (این این آئی)ایران میں جہاں ایک طرف کرونا وائرس لوگوں میں موت بانٹ رہا ہے اور دوسری طرف مشہد اور قم جیسے شہروں میں موجود مذہبی شخصیات کے مزارات پرآنے والے زائرین کی جانب سے ان مزاروں کی دیواریں چاٹنے اور انہیں بوسہ دینے کی ناقابل یقین سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

مزارات کو بوسے دینے اور انہیں چاٹنے والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اس طرح کرونا کو چیلنج کررہے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایسی متعدد ویڈیوز اور تصاویر موجود ہیں جن میں زائرین کو مزارات میں بے پرواہی کے ساتھ ان کی دیواروں کی بوسہ بازی کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک شخص کو فارسی میں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ میں نے سنا ہے کہ اس مزار سے وائرس پھیل سکتا ہے۔ ایک شخص کو یہاں سے کرونا وائرس لاحق ہوا کیونکہ اس نے اسے چھوا تھا۔ مگر اس مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ یہ مقدس مقام ہے اور یہاں سے اگر مجھے کرونا وائرس لگتا ہے تو کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ اس طرح کے واقعات دوسرے لوگوں کو بھی مزارات میں جانے اور اس طرح کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…