جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارتیوں کی شہریت پر انگلیاں اٹھانے والے خود مودی کی بھارتی شہریت پر سوالات اٹھ گئے،وزیر اعظم دفترکے جواب نے نئی بحث چھیڑ دی

datetime 1  مارچ‬‮  2020 |

نئی دہلی(آن لائن)وزیر اعظم نریندر مودی کی شہریت کے بارے میں سوال کرنے والے ایک بھارتی شہری کی طرف سے دائر آر ٹی آئی(رائٹ ٹو انفارمشین) کے جواب میں پی ایم او(وزیراعظم آفس)نے جواب دیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس شہریت کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن پیدائشی طور پروہ ایک ہندوستانی شہری ہیں۔

ذرا ئع ابلا غ کے مطابق جب سے بی جے پی حکومت نے شہریت ترمیمی ایکٹ منظور کیا ہے اس سے پہلے اور بعد بھی سی اے اے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور بھارت کا ہر شہری پریشان ہے کہ اپنی شہریت کیسے ثابت کرے۔ سبھاونکر سرکار نامی شخص نے 17 جنوری 2020 کو ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کا شہریت کا سرٹیفکیٹ مانگنے کے لئے آر ٹی آئی درخواست جمع کروائی تھی۔ان کی آر ٹی آئی کے جواب میں پی ایم او کے سکریٹری پروین کمار نے لکھاکہ وزیر اعظم شری نریندر مودی شہریت ایکٹ 1955 کے سیکشن 3 کے تحت پیدائشی طور پر ہندوستان کے شہری ہیں لیکن ان کی شہریت ہونے کے ثبوت کے طور پر جو سرٹیفیکیشن رجسٹریشن کے ذریعہ شہریت کے لئے درکار ہے وہ موجود نہیں ہیں۔وزیر اعظم کے دفتر کا ردعمل مبہم اور غیر واضح ہے۔ہندوستان کے شہری شہریت کے معاملے پر پریشان ہیں ، یہاں تک کہ پی ایم او، وزیر اعظم نریندر مودی کے شہریت کا سرٹیفکیٹ دکھانے میں ناکام ہے۔’’جو ہنس کے لئے اچھا ہے کیا وہ گیڈر کے لئے اچھا ہے؟‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…