منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

امریکہ افغانستان میں طالبان سے جنگ ختم لیکن انخلاء نہیں چاہتا، ٹرمپ کے بارے بھی انتہائی دھماکہ خیز بات کر دی گئی

datetime 29  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ، جان ایف کینڈی کے بعد امریکہ کا پہلا صدر ہے جو اسٹیبلشمنٹ کا حصہ نہیں، اس کی اپنی سوچ ہے جو اس کی استیبلشمنٹ کی عکاسی نہیں کرتی۔  امریکی افغانستان میں طالبان سے جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں تاہم وہ انخلا نہیں  چاہتے ا ور ان کے فوجی اڈے فی الحال قائم رہیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اگلا صدارتی الیکشن جیتے گا تو وہ اسی نعرے پر جیتے گا کہ میں نے افغانستان میں امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ کیا اور وہ الیکشن جیتنے کے لئے ایک طرح کا تحفہ امریکی عوام کو پیش کرے گا۔ان خیالات کا اظہار مشاہد حسین سید نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان اور خطہ کے لئے 9/11کے بعد  آج طالبان اور امریکہ کے در میان ہونے والا معاہدہ سب سے بڑا واقعہ ہے اور امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج ہوں گے۔ اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ یہ معاہدہ پائیدارہوگا اور کامیابی کی طرف جائے گا کیونکہ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے آئندہ صدارتی الیکشن کے لئے اس معاہدہ کی ضرورت ہے اور طالبان کو اس معاہدہ کی ضرورت ہے کہ وہ افغانستان میں 19 سال کی جنگ کے بعد اپنا کردار ادر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھی اس میں پور ی طرح شریک ہے کیونکہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے ماضی کی جو  غلط افغان پالیسی  تھی اس کو تبدیل کیا اور اگر افغانستان میں امن آئے گا تو اس سے پاکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطہ کے جتنے بھی اہم پلیئرز ہیں جن میں چین، امریکہ، پاکستان، روس اور ایران ہیں سب  اس معاہدہ کی تائید کررہے  ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات سازگار ہیں اور امید ہے کہ یہ معاہدہ ماضی سے پائیدار ثابت ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ملٹری  اسٹیبلشمٹ، امریکی جنرل اور سی آئی اے ابھی بھی چاہتی تھی کہ جنگ جاری رہے  تاہم افغانستان نے ثابت کر دیا کہ جیسے وہ برطانیہ اور روس کے لئے قبرستان ثابت ہوا تھا

اسی طرح امریکہ کے لئے قبرستان ثابت ہوا اور امریکہ 50سالوں میں ویتنام اور  عراق کے بعد افغانستان میں تیسری جنگ ہارا ہے۔ مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، جان ایف کینڈی کے بعد امریکہ کا پہلا صدر ہے جو اسٹیبلشمنٹ کا حصہ نہیں، اس کی اپنی سوچ ہے جو اس کی استیبلشمنٹ کی عکاسی نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افغانستان میں طالبان سے جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں تاہم وہ انخلا نہیں  چاہتے   ا ور ان کے فوجی اڈے فی الحال قائم رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ

ڈونلڈ ٹرمپ اگلا صدارتی الیکشن جیتے گا تو وہ اسی نعرے پر جیتے گا کہ میں نے افغانستان میں امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ کیا اور وہ الیکشن جیتنے کے لئے ایک طرح کا تحفہ امریکی عوام کو پیش کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی افغان مہاجرین کی واپسی کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہمیں فی الحال اس کی کوشش کرنی چاہیئے، پہلے معاہدے ہوں، امن قائم ہو، حکومت قائم ہو جس کو سب مانیں جس میں طالبا ن بھی ہوں گے اور افغان حکومت کے نمائندے بھی ہوں گے اور اس کے بعد حالات سازگار ہوں اور دو تین سال کے بعد افغان مہاجرین کی پرامن واپسی کا سوچ سکتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…