منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

شہر قائد میں انتہائی حیرت انگیز اور خوفزدہ کر دینے والا واقعہ، جام صادق پل سے تاجر کی لٹکتی نعش برآمد

datetime 29  فروری‬‮  2020 |

کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی کے علاقے ڈیفنس کو کورنگی انڈسٹریل ایریا سے ملانے والے کورنگی ندی کے جام صادق پل سے ہفتہ کی صبح تاجر کی لٹکتی ہوئی نعش ملی ہے۔ایس ایس پی کورنگی فیصل عبداللہ چاچڑ کے مطابق نعش کئی روز پرانی ہے،

جس کی شناخت محمد حسین میو کے نام سے ہوئی ہے، متوفی دودھ کے کام سے منسلک بتایا جاتا ہے۔پولیس کے مطابق نعش شلوار کے ازار بند سے گلے میں پھندا لگا کر لٹکتی ہوئی پائی گئی ہے۔فیصل عبد اللہ چاچڑ کے مطابق کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس کی ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ متوفی نے مبینہ طور پر خودکشی نہیں کی بلکہ کسی اور مقام پر اسے قتل کر کے اس کی نعش یہاں لٹکائی گئی ہے، تاہم اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔پولیس کے مطابق متوفی کی نعش کی تلاشی کے دوران شناختی کارڈ کے علاوہ کچھ پرچیاں بھی ملی ہیں جن پر مختلف لوگوں کے نام اور نمبر درج ہیں۔پولیس کے مطابق ان میں سے ایک پرچی پر دیئے گئے نمبرز پر رابطہ کیا گیا تو مذکورہ شخص نے متوفی محمد حسین میو کو اپنے قرض دار کے طور پر شناخت کیا۔مذکورہ شخص کے مطابق مرنے والے نے کئی لوگوں کے پیسے دینے تھے اور وہ اسے 4 دن سے تلاش کر رہے تھے۔پولیس کے مطابق اس نکتے سے اشارہ خودکشی کی جانب جاتا ہے لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں، تاہم تفتیش کی جا رہی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…