منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

اقراء کائنات کی موت کیسے ہوئی؟ باقی بچیوں کو بھی جان کا خطرہ، یہ وفاقی وزیر معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں، افشاں لطیف کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 29  فروری‬‮  2020 |

لاہور (این این آئی) سابق سپرنٹنڈنٹ کاشانہ ہاؤس افشاں لطیف نے کہا ہے کہ اقرا کائنات کی پوسٹ ماٹم رپورٹ کے مطابق اس کی موت فاقہ کشی سے ہوئی،اقرا کائنات کی موت کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جنہوں ں نے باقی بچیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی،کاشانہ ہاؤس میں موجود باقی بچیوں کو بھی جان کو خطرہ ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ افشاں لطیف نے کہاکہ میں نے کاشانہ ہاؤس کے حالات سے متعلق وزیراعلی کو خط لکھاتھا۔حکومت پنجاب کی جانب سے مجھے ڈونرز کے پیسوں سے کاشانہ ہاؤس چلانے کا کہا گیا،کاشانہ کے ڈونرز کو میں اگر بچیاں فراہم کرو تو ڈونرز بھی تعاون کرینگے،میں نے یہ سب چیزیں بند کردیں،مجھے مختلف قسم کے لالچ دئیے گئے۔ا نہوں نے کہاکہ اقرا کائنات کی ایف آئی آر ابھی تک درج نہیں کی گئی جو حکومتی وزرا ء اس معاملے شامل ہے ان کو گرفتار کیا جائے۔کاشانہ ہاؤس میں موجود باقی بچیوں کو بھی جان کو خطرہ ہے،اگر اقرا کائنات کاشانہ ہاؤس میں رہتی تو آج وہ زندہ ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ زبان بندی کیلئے ترقی دینے کا وعدہ کیا گیالیکن میں نے ان بااثر لوگوں کی بات نہیں مانی اوروہی بااثر لوگ آج مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کاشانہ سکینڈل میں ملوث شامل وزرا ء کو شامل تفتیش کیا جائے،وزیرقانون راجہ بشارت،سیکرٹری سوشل ویلفیئر سمیت کئی افسران سمیت پنجاب پولیس کے افسران بھی اس گھنوؤنے کھیل میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ راجہ بشارت ہر طرح سے معاملے کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ سیکرٹری زاہد گوندل اور سپیشل برانچ نے مجھے ترقی دینے کی آفر کی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…