ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

اگر کسی نے خاتون سے پیسے مانگے تو سب کو عدالت بلا لیں گے، کینسر میں مبتلا خاتون کا علاج سرکاری خرچ پر کرنے کا حکم، انتہائی احسن اقدام

datetime 28  فروری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (این این آئی) گٹکا، مین پوری اور ماوا کی فروخت کے خلاف صنوبر خاتون کی درخواست کی سماعت، عدالت نے کینسر میں مبتلا خاتون کا سرکاری خرچ پر علاج کرنے کا حکم دے دیا۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے گٹکے کے باعث کینسر کا شکار ہونے والی صنوبر خاتوں کی درخواست کی سماعت کی عدالت نے گٹکا کھانے اور فروخت پر پابندی کے لیے قانون سازی پر عملدرآمد سے متعلق عدالت سیکرٹری داخلہ کو طلب کرلیا،

عدالت کا کہنا تھا کہ فریقین 10 مارچ کو وضاحت کریں، عدالت نے کینسر میں مبتلا خاتون کا سرکاری خرچ پر علاج کرنے کا حکم دیا عدالت کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کینسر میں مبتلا خاتون کے علاج کے مکمل اخراجات برداشت کرے،اگر کسی نے خاتون سے پیسے مانگے تو سب کو عدالت بلا لیں گے، عدالت کا زکوا فنڈ سے خاتون کو ماہوار رقم جاری کرنے کا حکم بھی دیا عدالت کا کہنا تھا کہ کینسر میں مبتلا خاتون کو سندھ حکومت ماہوار پیسے دے تاکہ یہ اپنی زندگی عزت سے گزار سکے،عدالت نے کاٹی کو فیکٹریوں میں گٹکے کی پابندی یقینی بنانے کا حکم بھی دیا،دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ گٹکا کھانے سے خطرناک کینسر پھیل رہا ہے، درخواست گزار خاتون کی تصاویر بھی نہیں دیکھ سکتے،فیکٹری اور تاجر برادری اپنے ملازمین کو اس خطرناک چیز سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کررہی ہیں؟ کاٹی کے جنرل سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ گٹکا اور ماوا کے فروخت پر پابندی کے لیے تمام فیکٹریوں کو سرکلر جاری کردیا ہے، عدالت کا کہنا تھا کہ پولیس گٹکا بنانے والوں کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کررہے؟قانون سازی کے باوجود اقدامات کیوں نہیں ہورہے؟پولیس کا کہنا تھا کہ گٹکا بنانے والے کافی ہوشیار ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لییجگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں، درخواست گزار خاتوں کا کہنا تھا کہ چار سال سے فیکٹری میں مزوری کرتی ہوں،گٹکاکھانے سے منہ کینسر ہوا، اب زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوں،سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے پابندی کے باوجود کراچی کے مختلف علاقوں میں رجنی گٹکا، ماوا دیگر صحت کے لیے خطرناک اشیا فروخت ہورہی ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…