منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

بے حسی اور لالچ نے آنکھوں پر پٹی باندھ دی، پاکستان میں ماسک انتہائی مہنگے داموں فروخت ہونا شروع،43 کلو وزنی ماسک بیرون ملک لے جانے کی بھی کوشش

datetime 27  فروری‬‮  2020 |

لاہور (نیوز ڈیسک) کسٹم حکام نے لاہور ائیر پورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے بیرون ملک جانے والے مسافر سے 43 کلو وزنی ماسک برآمد کر لیے۔کسٹم حکام کے مطابق فیصل آباد کا مسافر ماسک تھیلوں میں بھر کر غیر ملکی پرواز سے بنکاک جا رہا تھا جسے حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے گذشتہ روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دنیا بھر میں تباہی مچانے والا کورونا وائرس پاکستان پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران سے آنے والے کراچی اور اسلام آبادکے 2 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ کراچی اور اسلام آباد میں کرونا وائرس کے دو مریض آنے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں نجی میڈیکل سٹور سے این 95 ماسک غائب ہونے لگ گئے ہیں ، مافیا نے 400 روپے کا ماسک 1100 روپے میں بیچنا شروع کردیا ہے۔ وزارت صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے شہر اقتدار میں عام شہریوں میں شدید خوف وہراس کی فضا قائم ہوگئی ہے پاکستان میں کرونا وائرس کے آمد کے ساتھ ہی اس وقت پورے ملک میں شدید خوف وہراس کی فضا قائم ہوگئی ہے جڑواں شہروں میں شہری احتیاطی تدابیر کے تحت چہرے کو ڈھاپنے کیلئے مخصوص قسم کا ماسک این 95 پورے دن ڈھونٹے پھر رہے تھے لیکن اکثر نجی میڈیکل سٹور سے مالک غائب ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر قلت پیدا کردی گئی ہے اور جہاں پر ماسک موجود ہیں وہاں پر 400 روپے کا ماسک 1100 روپے میں بیچا جارہا ہے شہریوں نے وزارت صحت اور ڈریپ حکام سے کرونا وائرس کیلئے ضروری اقدامات پورے کرنے کیلئے نجی سٹوروں پر ضروری اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ اسلام آباد میں پانچ سے دس روپے ملنے والا عام ماسک بھی 30 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور میڈیکل سٹور ایک محدود تعداد میں لوگوں کو یہ ماسک فراہم کر رہے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…