منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

(ن)لیگ کے دور میں شرح نمو رریکارڈ سطح پر تھی ، مہنگائی کے جن کو بھی بوتل میں بند کر دیا گیا تھا ‘یہ دور اب کیسے واپس آسکتا ہے ؟اسحاق ڈار کےعمران خان کو مفید مشورے

datetime 27  فروری‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی) سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ پالیسی ریٹ کے ساتھ انڈسٹری کا چلنا نا ممکن ہے ،ہمارے دور میں شرح نمو ریکارڈ سطح پر تھی جبکہ مہنگائی کے جن کو بھی بوتل میں بند کر دیا گیا تھا لیکن آج سب کچھ اس کے برعکس ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لندن میں اپنی رہائشگاہ پر آل پاکستان انجمن تاجران کے سیکرٹری جنرل نعیم میر سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں شرح منافع 6 فیصد اور ایکسپورٹ ری فنانس 3 فیصد کی شرح پر تھی،،پانچ سالوں میں ریونیو کولیکشن دو گنا ہو گئی تھی ، تاجر برادری کا ہماری حکومت پر اعتماد تھا ۔اگر آج بھی ہمارے معاشی ماڈل کو اپنا لیا جائے تو معاشی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان 2030 میں جی 20 ویں میں شامل ہونے جارہا تھا لیکن آج ہم 50 ویں نمبر پر آگئے ہیں ،کمٹمنٹ، نیک نیتی اور کوشش سے پاکستان دوبارہ اپنی پٹڑی پر چڑھ سکتا ہے ۔ نعیم میر نے اسحاق ڈار کی ملک کیلئے خدمات پر زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈارجس طرح بزنس کمیونٹی کو اپنے ساتھ لیکر چلتے تھے اس کی مثال نہیں ملتی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…