بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

نوازشریف کو سلیکٹڈ کیوں کہا؟ن لیگ ، پیپلز پارٹی سے سخت ناراض ، زرداری کوسخت پیغام بھجوادیاگیا

datetime 24  فروری‬‮  2020 |

لاہور(آن لائن)شریف برادران کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو ان کے بیٹے کے ’بلاجواز جملوں‘ پر ’ناراضی‘ کا پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئرر رہنما نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے بیان کو پسند نہیں کیا اور پی پی پی کی اعلیٰ قیادت تک اپنی ناراضی کا پیغام پہنچا دیا ہے۔

یاد رہے کہ بلاول بھٹو نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ عمران خان کی طرح مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف بھی ’سیلیکٹڈ‘ (اسٹیبلشمنٹ کے منتخب) وزیراعظم تھے۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ قیادت کی جانب سے ’ناراضی‘ کا پیغام پہنچانے کے بعد امید ہے کہ بلاول بھٹو کی جانب سے مزید کوئی ’پھلجڑی‘ نہیں چھوڑی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری جماعت کی قیادت نے ہمیں سختی سے اس پر ردِ عمل نہ دینے کی ہدایت کی ہے کیوں کہ ہمیں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے‘۔مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کو مستقبل کے بارے میں بات کرنی چاہیئے کیوں کہ دوبارہ الزام تراشیوں میں پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پی پی پی اور دیگر جماعتوں کی تاریخ سب کے سامنے ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر توجہ دے جس نے قیمتوں میں اضافے، مہنگائی، بے روزگاری سے عوام کی زندگی مشکل بنادی ہے اور ایسی کوئی چیز نہ کریں جس سے اپوزیشن کے مقصد کو نقصان پہنچے‘۔مسلم لیگ (ن) کے کچھ اراکین کی رائے ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی میں ان کے قریب کچھ رہنماؤں نے مشورہ دیا ہے کہ اگر پنجاب میں پارٹی کو تجدید دینی ہے تو شریفوں پر تنقید کرنی ہوگی۔

مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع کا کہنا تھا کہ ’چونکہ اس وقت دونوں جماعتوں کو کسی خاص مقصد یعنی ان ہاؤس تبدیلی کے لیے تعاون کرنے کی ضرورت نہیں اس لیے بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے توپوں کا رخ عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ مسلم لیگ(ن) کی طرف کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی رہنما کو معلوم تھا کہ عمران خان کی حکومت کو ’سیلیکٹرز نے مزید وقت دے دیا ہے اس لیے وہ پنجاب میں ’جارحانہ سیاست‘ کرتے ہوئے ایسے وقت میں کہ جب پی ٹی آئی حکومت کو گھر بھیجنے کا مشترکہ چیلنج درپیش ہے، اپنے فطری اتحادی (مسلم لیگ ن) کے لیے بھی کوئی نرمی نہیں دکھا رہے۔اس سلسلے میں پی پی پی کے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کے شریف برادران کے بارے میں دیے گئے بیان پر زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ وہ سیاق و سباق کے حوالے سے بیان کردہ حقائق تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…