منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

چین میں ہمارے بچوں کا کوئی علاج نہیں ہورہا، واپس لے آؤ بے شک یہاں الگ وارڈز میں ان کو رکھ دو،ووہان میں پھنسے پاکستانی طلباء کے والدین پھٹ پڑے

datetime 19  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)ووہان میں پھنسے پاکستانی طلباء کے والدین کو بریفنگ دینے کامعاملہ ،او پی ایف بوائز کالج میں والدین معاون خصوصی برائے صحت اور اوور سیز پاکستانی کے سامنے پھٹ پڑے۔

بدھ کو والدین نے بریفنگ لینے سے انکار کرتے ہوئے شدید شور شرابہ کیا اور کہاکہ ہمیں ہر صورت اپنے بچے چاہئیں ،والدین بے قابو ہوگئے اور سٹیج پر آ گئے،پولیس والدین کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی رہی اس وقع پر وزیر کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہاکہ ہم بچوں کی واپسی کا ٹائم نہیں بتا سکتے ۔ والدین نے کہاکہ ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے ہیں بچے واپس نہیں لاسکتے، ہمارے دل پر کوئی مرحم تو رکھ دو۔ والدین نے کہاکہ ہمارے بچوں کو چین میں کمروں میں بند کردیا گیا ہے، چین میں ہمارے بچوں کا کوئی علاج نہیں ہورہا۔ والدین نے کہاکہ بچوں کو واپس لے آؤ بے شک یہاں الگ وارڈز میں ان کو رکھ دو، آپ ہمیں بتائیں کب بچے واپس آئیں گے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ ہم بچوں کی واپسی کا کوئی ٹاائم نہیں بتا سکتے، کابینہ میں آپ کا معاملہ اٹھائیں گے تاہم ظفر مرزا اور زلفی بخاری والدین کی بات سنے بغیر اٹھ کر چلے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…