منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

’’جو تم سے پناہ کا طالب ہو اسے پناہ دے دیا کرو‘‘ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا افغان مہاجرین کانفرنس کے دوران اپنی تقریر میں ’’سورہ توبہ‘ ‘کا ذکر

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ 40 سال سے پاکستان نے افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے،پاکستان دنیا میں زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے،افغان مسئلے کے تمام حل افغانستان کی سرزمین میں ہی پنہاں ہیں،عالمی برادری افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے آگے آئے، افغانستان اور اس کے عوام کو اب تنہا نہ چھوڑیں۔

پیر کو پاکستان میں 40 برس سے مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ جب بھی انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا ہمیشہ افغان بھائیوں کے ساتھ قابل ذکر تعاون دیکھا یہاں تک کہ اس وقت بھی جب عالمی حمایت بہت کم تھی۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ ہم یکجہتی اور ہمدردی کی قابل ذکر کہانی کا اعتراف کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں، ایسا کرنا اہم ہے کیونکہ یہ کہانی دہائیوں پر محیط ہے۔انہوں نے کہا کہ 40 سال سے پاکستان نے افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان دنیا میں زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ 40 سال سے افغان عوام مسائل کا شکار ہیں تاہم پاکستان نے اپنے اندرونی مسائل کے باوجود افغان مہاجرین کے لیے مثبت اقدامات کئے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ افغان مسئلے کے تمام حل افغانستان کی سرزمین میں ہی پنہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے آگے آئے، افغانستان اور اس کے عوام کو اب تنہا نہ چھوڑیں۔’’جو تم سے پناہ کا طالب ہو اسے پناہ دے دیا کرو‘‘ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے افغان مہاجرین کانفرنس کے دوران اپنی تقریر میں ’’سورہ توبہ‘ ‘کا ذکربھی کیا۔

ا قوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 40 سال سے پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا ہے، پاکستان اور ایران نے انتہائی مشکل حالات میں لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور عالمی سطح پر رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے 90 فیصد کے مساوی ان ممالک میں مقیم ہیں۔ پاکستان اور ایران پناہ گزینوں کی تعلیم، صحت اور مالیات کے شعبہ تک رسائی کے علاوہ دیگر سہولیات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں تاکہ وہ ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ میزبان ملکوں کی حکومتوں اور عوام کی قربانیوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ابھی بھی خانہ جنگی مکمل ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مہاجرین کی وطن واپسی کا پائیدار حل تلا ش کرنا ہے اور اس حوالہ سے تمام شراکت داروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ پناہ گزینوں کی با عزت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا افغان مہاجرین کیلئے بینک اکائونٹ کھلوانے کی اجازت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سیفران کے وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا کہ پاکستان 40 سال سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان مہاجرین کی وطن واپسی کی مؤثر حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔ پاکستان افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لئے اپنا کردار اد اکرتا رہے گا۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…