جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

’’جو تم سے پناہ کا طالب ہو اسے پناہ دے دیا کرو‘‘ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا افغان مہاجرین کانفرنس کے دوران اپنی تقریر میں ’’سورہ توبہ‘ ‘کا ذکر

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ 40 سال سے پاکستان نے افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے،پاکستان دنیا میں زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے،افغان مسئلے کے تمام حل افغانستان کی سرزمین میں ہی پنہاں ہیں،عالمی برادری افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے آگے آئے، افغانستان اور اس کے عوام کو اب تنہا نہ چھوڑیں۔

پیر کو پاکستان میں 40 برس سے مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ جب بھی انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا ہمیشہ افغان بھائیوں کے ساتھ قابل ذکر تعاون دیکھا یہاں تک کہ اس وقت بھی جب عالمی حمایت بہت کم تھی۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ ہم یکجہتی اور ہمدردی کی قابل ذکر کہانی کا اعتراف کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں، ایسا کرنا اہم ہے کیونکہ یہ کہانی دہائیوں پر محیط ہے۔انہوں نے کہا کہ 40 سال سے پاکستان نے افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان دنیا میں زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ 40 سال سے افغان عوام مسائل کا شکار ہیں تاہم پاکستان نے اپنے اندرونی مسائل کے باوجود افغان مہاجرین کے لیے مثبت اقدامات کئے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ افغان مسئلے کے تمام حل افغانستان کی سرزمین میں ہی پنہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے آگے آئے، افغانستان اور اس کے عوام کو اب تنہا نہ چھوڑیں۔’’جو تم سے پناہ کا طالب ہو اسے پناہ دے دیا کرو‘‘ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے افغان مہاجرین کانفرنس کے دوران اپنی تقریر میں ’’سورہ توبہ‘ ‘کا ذکربھی کیا۔

ا قوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 40 سال سے پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا ہے، پاکستان اور ایران نے انتہائی مشکل حالات میں لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور عالمی سطح پر رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے 90 فیصد کے مساوی ان ممالک میں مقیم ہیں۔ پاکستان اور ایران پناہ گزینوں کی تعلیم، صحت اور مالیات کے شعبہ تک رسائی کے علاوہ دیگر سہولیات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں تاکہ وہ ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ میزبان ملکوں کی حکومتوں اور عوام کی قربانیوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ابھی بھی خانہ جنگی مکمل ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مہاجرین کی وطن واپسی کا پائیدار حل تلا ش کرنا ہے اور اس حوالہ سے تمام شراکت داروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ پناہ گزینوں کی با عزت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا افغان مہاجرین کیلئے بینک اکائونٹ کھلوانے کی اجازت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سیفران کے وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہا کہ پاکستان 40 سال سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان مہاجرین کی وطن واپسی کی مؤثر حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔ پاکستان افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لئے اپنا کردار اد اکرتا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…