بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

سانحہ اے پی ایس کے ورثا ٹھیک کہتے تھے واقعہ خود کرایا گیا، احسان اللہ احسان کہاں ہے؟سینٹ میں سوالات اٹھ گئے

datetime 11  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن )سینیٹر ورہنما مسلم لیگ ن مشاہد اللہ خانے سینیٹ میں خطاب کے دوران حکومت سے سوال کیا ہے کہ آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کو قتل کرنے والا احسان اللہ احسان کہاں ہے؟ احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے بعد علی امین گنڈا پور کے کلبوشن کے ملک سے باہر چلے جانے کے بیان کو بھی سنجیدہ لینا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر مشاہد اللہ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کا قاتل احسان اللہ احسان کہاں ہے؟۔اس ملک میں ہو کیا رہا ہے ؟ ان کا کہنا ہے کہ جواب دینا حکومت کا کام ہے کسی اور کا نہیں ۔ مشاہد اللہ نے کہا ہے کہ ایک وفاقی وزیر نے ٹی وی پر آکر کہا تھا کہ کلبھوشن جا چکا ہے، میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کلبھوشن کو ٹی وی پر لا کر دکھایا جائے کہ وہ کہاں ہے۔مشاہد اللہ نے کہا کہ پہلے وفاقی وزیر کی بات کو ہم نے زیادہ سنجیدہ نہیں لیا ، تاہم ہو سکتا ہے کہ کلبھوشن ملک سے باہر چلا گیا ہو۔احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے بعد اس معاملے کو سنجیدہ لیناہوگا۔ تحریک انصاف ہماری حکومت میں کلبھوشن کا بہت نام لیتی تھی اب خاموش ہے۔ ۔ مشاہد اللہ نے کہا مجھے اب سمجھ آیا اے پی ایس شہدا کے وارث ٹھیک کہتے تھے کہ یہ واقعہ خود کرایا گیا ہے واضح رہے کہ سیکیورٹی حکام نے احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کی تصدیق کر دی تھی۔کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے آڈیو بیان میں دعوی کیا تھا کہ وہ سرکاری تحویل سے فرار ہوگیا اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان ایک حساس آپریشن کے دوران فرار ہوا، اسے اپنے جرائم کی سزا ملنا تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…