بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

خوراک چوروں نے صرف گندم کے ذریعے ایک ماہ میں 70 ارب روپے کی دیہاڑی لگائی،مہنگائی 12 برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے، حکومت نے مہنگائی کے معاملے میں پاکستان کو کرفیو کے بغیر مقبوضہ کشمیر بنا دیا،کیا 15 ارب کا پیکج کافی ہے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

آج وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کراچی میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے خطاب کیا، میں شاہ صاحب کی گفتگو سے اتفاق کرتا ہوں، بے شک مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 190دن ہو چکے ہیں‘ وادی میں چھ ماہ سے مارکیٹیں‘ سکول‘ ہسپتال‘ منڈیاں‘ دفتر اور انٹرنیٹ تک بند ہے‘ لوگ ادویات تک نہیں خرید سکتے‘

خوراک کا بحران بھی پیدا ہو چکا ہے اور ہم اگر اس صورت حال کو عالمی انسانی المیہ کہیں تو یہ غلط نہیں ہو گا لیکن انڈیا نے یہ حالات 190دن کے کرفیو کے ذریعے پیدا کیے جب کہ ہماری حکومت نے کرفیو کے بغیر پورے ملک کی اکانومی تباہ کر دی، آپ کارخانوں، صنعتوں، سٹاک ایکس چینج اور منڈیوں کو سائیڈ پر رکھ دیں‘ آپ صرف مہنگائی کو لے لیجیے‘ مہنگائی 15فیصد کو ٹچ کر رہی ہے اور یہ بارہ برسوں کی بلند ترین سطح ہے، اس صورت حال پر وزیراعظم بھی پریشان ہیں اور وفاقی وزراء بھی۔ حکومت کو چاہیے تھا یہ مہنگائی کے ذمہ داروں کو پکڑتی لیکن اس کے بجائے وزیراعظم نے آج 15 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کر دیا، یہ رقم مہنگائی کے تناسب سے بہت کم ہے، خوراک چوروں نے صرف گندم کے ذریعے ایک ماہ میں 70 ارب روپے کی دیہاڑی لگائی، حکومت کو چاہیے تھا یہ ان لوگوں کو گرفتار کرتی جب کہ اس نے چھوٹا سا پیکج اناؤنس کر دیا‘ ہم اگر 15 ارب کو بائیس کروڑ لوگوں پر تقسیم کریں تو فی کس 70 روپے بنتے ہیں، 70 روپے میں ایک کلو آٹا‘ ایک کلو چینی اور ایک کلو ٹماٹر بھی نہیں آتے، عوام کو خاک ریلیف ملے گا چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں حکومت نے مہنگائی کے معاملے میں پاکستان کو کرفیو کے بغیر مقبوضہ کشمیر بنا دیا۔کیا 15 ارب روپے کا پیکج کافی ہے، جب کہ کل مہنگائی پر قومی اسمبلی کا سیشن بھی ہو گا‘ عوام کو اس سیشن کا کیا فائدہ ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…