جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بی آر ٹی منصوبہ، سابق وزرائے اعلیٰ شہباز شریف اور پرویز خٹک کے درمیان ٹوئٹر پر لفظی جنگ چھڑ گئی

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پشاور کے بی آر ٹی منصوبے سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور وزیر دفاع پرویز خٹک کے درمیان ٹوئٹر پر لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب شہباز شریف نے ٹوئٹ میں کہا کہ پشاور بی آر ٹی کی لاگت لاہور، ملتان اوراسلام آباد میٹرو کی مشترکہ لاگت کے برابر ہے۔

27 کلومیٹر طویل لاہور میٹرو منصوبے پر کل لاگت 29 ارب 65 کروڑ روپے آئی جب کہ 27.6 کلومیٹر طویل پشاور بی آرٹٰی کی لاگت 90 ارب روپے ہے۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بنائے گئے تینوں میٹرو منصوبے اپنے وقت پر مکمل ہوئے جب کہ پشاور بی آر ٹی اب تک نامکمل ہے، ہمارے منصوبوں پر کرپشن کے الزام لگے اور انہیں جنگلا بس کہا گیا۔ دوسری جانب یہ بھی کوئی تعجب خیز نہیں کہ پی ٹی آئی نے اپنے منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات رکوانے کے لیے حکم امتناعی لے رکھا ہے۔شہباز شریف کے ٹوئٹ پر پرویز خٹک بھی میدان میں آگئے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کی تعمیراتی لاگت 66 ارب روپے ہے، جو لاہور منصوبے سے اب بھی کم ہے، بی آر ٹی منصوبے کا مرکزی کوریڈوراورمتصل روٹس مکمل ہوچکے، یہاں لگنے والا انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نظام عنقریب مکمل ہونے والا ہے۔واضح رہے کہ پشاور بی آر ٹی منصوبے کو پی ٹی آئی کی گزشتہ خیبر پختونخوا حکومت نے شروع کیا تھا، اس وقت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…