جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

وکلا کو ’’غنڈہ گردی‘‘سے روکنے کیلئے حکومت کی منصوبہ بندی تشدد، دھوکہ دہی، فراڈ، جعلسازی، جھوٹے حلف نامے یا جان بوجھ کر حقائق چھپانے میں ملوث وکیل کیلئے سخت ترین سزا کا اعلان

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن ) حکومت نے وکلا کو ’’غنڈہ گردی‘‘ سے روکنے کیلئے منصوبہ بندی کر لی ہے ۔ تشدد میں ملوث وکیل کا ہمیشہ کے لیے لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔ وکیل دھوکہ دہی، فراڈ، جعلسازی، جھوٹے حلف نامے یا جان بوجھ کر حقائق چھپانے میں ملوث پایا گیا تو بھی اس کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وکلا برادری کی جانب سے پرتشدد مظاہروں کے متعدد واقعات نے حکومت کو اس شعبے سے وابستہ عناصر کو تمیز سکھانے کے طریقے ڈھونڈنے پر مجبور کردیا ہے اور اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے معلومات رکھنے والے حکومت لیگل پریکٹشنرز اینڈ بار کونسلز (ترمیمی) ایکٹ 2019 میں مزید ترمیم پر غور کر رہی ہے تاکہ قانون کے شعبے اور عدالتی کارروائیوں میں میں پر امن ماحول دیکھنے کو ملے اور وکلا کے مظاہرے پرتشدد نہ ہوسکیں۔جن ترامیم پر حکومت غور کر رہی ہے لیگل پریکٹشنرز اینڈ بار کونسلز (ترمیمی) ایکٹ 2019 کے سیکشن 41 میں سب سیکشن 6 متعارف کرایا جانا ہے۔اس ترمیم میں پیش کیا گیا ہے کہ تشدد میں ملوث وکیل کا ہمیشہ کے لیے لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔اس میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اگر وکیل دھوکہ دہی، فراڈ، جعلسازی، جھوٹے حلف نامے یا جان بوجھ کر حقائق چھپانے میں ملوث پایا گیا تو بھی اس کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔اس طرح کی پیش رفت پر وکلا برادری کی جانب سے تنقید کی جائے گی جبکہ حکومت نے وکلا کی ریگولیٹری ادارے جیسے پاکستان بار کونسل اور دیگر صوبائی کونسلز سے قانون میں مزید بہتری کے لیے تجویز طلب کرلی ہے۔قانون میں تبدیلی کی اہم وجہ گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی (پی آئی سی) لاہور کا سانحہ ہے۔اس سانحے کی نہ صرف ملک بھر میں مذمت کی گئی بلکہ وکلا کی ریگولیٹ کرنے والے سب سے بڑے ادارے پاکستان بار کونسل پر بھی قوم سے اس طرح کے پرتشدد اقدام پر معافی مانگنے پر دباؤ دیکھا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…