بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اللہ تعالی کے احکام سے بغاوت کرنے والوں کیلئے  کروناوائرس عذاب الہٰی ہے؟ کرونا وائرس سے بچائو کیلئے دن میٰں پانچ مرتبہ وضو کر نا  ہر بند ے کیلئے لازم قرار

datetime 4  فروری‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے چین میں پھیلنے والے کرونا وائرس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے حالات و واقعات کو دیکھنے سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ کرونا وائرس بیماری اور وباء سے بڑھ کر عذاب الٰہی ہے۔اللہ تعالی کے احکام سے بغاوت کرنے والے معاشروں کو ایسی مہلک ترین بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہمیں ایسی بیماریوں سے بچاؤ کیلئے دعاؤں، دواؤں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب بننے والے کاموں سے توبہ کرنی ہوگی۔ اسلام وہ ضابطۂ حیات ہے جس نے انسانی حیات کو لاحق ہونے والے خطرات کا چودہ صدیاں پہلے حل بتایا۔ حلال و حرام کی تمیز جس پراسلام میں بہت زور دیا جاتا ہے، اس کی حکمتوں میں سے ایک بڑی حکمت موذی امراض سے انسان کا بچاؤ ہے۔ انسان کو پید اکرنے والا رب بہتر جانتا ہے کہ کس چیز کا گوشت انسانی مزاج کے موافق ہے اور کون سا انسان کے لیے آگ اور زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج کرونا وائرس اسی آگ اور زہر کا ایک اظہار ہے۔ انسانی ملاپ کی ناجائز صورتیں بھی جسمانی بیماریوں کا روپ دھا ر لیتی ہیں۔ اسلام کے نظامِ طہارت کا کسی مذہب میں کوئی متبادل نہیں۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے آج جو سب سے بڑی پرہیز بتائی جا رہی ہے وہ دن میں چار پانچ بار وضو کرنا ہے جو اسلام نے چودہ صدیاں پہلے ہر بندے کے لیے لازم قرار دیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ کرونا وائرس جیسی بیماریوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بندوں کو جھنجوڑتا ہے مگر لوگ بدی کی راہوں سے نکلنے کی بجائے مزید دھنستے ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا تھا جس معاشرے میں عریانی فحاشی عام ہو اس معاشرے میں ایسی بیماریاں آ جاتی ہیں جو کبھی سنیں ہی نہیں گئیں۔چنانچہ ضروری ہے کہ ہم دین اسلام کی تعلیمات پر سختی سے کاربند ہوکر دونوں جہاں کی سعادتیں حاصل کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…