بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

جرمنی کولون شہر میں لیبارٹری میں سورج بنانے کا تجربہ کر رہا ہے، لیبارٹریوں میں سورج بنانے والے اور آٹے کے پیچھے بھاگنے والے ایک میز پر کیسے آئیں گے؟جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 4  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(پروگرام ، کل تک )دنیا میں دو قسم کی قومیں ہیں‘ ایک قسم کی قومیں بڑے بڑے تجربے کر رہی ہیں‘ مثلاً جرمنی کولون شہر میں لیبارٹری میں سورج بنانے کا تجربہ کر رہا ہے‘ دو سال پہلے جرمن سائنس دانوں نے 119 لیمپس کی روشنی ایک نقطے پر پھینک کر ساڑھے تین ہزار ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پیدا کیا‘ اس تجربے میں چار گھنٹے میں صرف اتنی بجلی استعمال ہوئی

جتنی چار افراد کا خاندان ایک سال میں استعمال کرتا ہے‘ یہ تجربہ اگر کام یاب ہو گیا تو پوری دنیا کا لیونگ سٹینڈر تبدیل ہو جائے گا‘ گاڑیوں اور ٹرینوں سے لے کر جہازوں تک اور پورے پورے شہر کی ہیٹنگ اور کولنگز کی کاسٹ چند ہزار روپے پر آ جائے گی‘ یہ ایک قسم کی قومیں ہیں جب کہ دوسری قسم میں ہم جیسی قومیں آتی ہیں‘ ہم آٹے‘ چینی اور دالوں کی قلت پیدا کرنے کے تجربے کر رہے ہیں‘ ہم ٹماٹروں اور پیازوں کو غائب کرنے کا تجربہ کر رہے ہیں اور ہم اتحادیوں کو ناراض کرنے اور پھر راضی کرنے کے تجربے کر رہے ہیں‘ آپ ذرا سوچیے قوموں کا یہ فرق کیسے ختم ہو گا؟ لیبارٹریوں میں سورج بنانے والے اور آٹے کے پیچھے بھاگنے والے ایک میز پر کیسے آئیں گے‘ میں ۔۔اس سوال کا جواب آپ پر چھوڑتا ہوں،مہنگائی کا ایشو خصوصی سیشن تک جا پہنچا ‘ کیا یہ واقعی جینوئن ایشو ہے یا پھر یہ مصنوعی ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا جب کہ آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے کشمیر پر متفقہ قراردادیں پاس کر دیں ۔۔لیکن ساتھ ہی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اپنی ہی وزارت خارجہ کو چارج شیٹ کر دیا ، یہ اعتراضات اگر اپوزیشن اٹھاتی تو شاید یہ خبر‘ خبر نہ بنتی ۔۔لیکن وفاقی وزیر کی طرف سے اعتراض ۔۔اس کا کیا مطلب ہے؟ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…