بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مجھے جس ریفرنس میں ملوث کیا گیا اس کا سر تھا نہ پیر، رہائی کے فیصلے کے بعد راجہ پرویز اشرف کا بیان سامنے آ گیا

datetime 3  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور دیگر سات ملزمان کو پیپکو میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں چار سال بعد بری کر دیا۔احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا یا۔ سابق وزیراعظم کی جانب سے نیب کے قوانین میں ترمیم کے بعد بریت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔نیب نے نے گیپکو میں غیر قانونی بھرتیوں کے

کرپشن ریفرنس میں راجہ پرویزاشرف سمیت 8 ملزمان کو نامزد کر رکھا تھا۔نیب کا الزام تھا کہ سابق وزیراعظم نے 437ایسے افراد کو نوکریاں فراہم کیں جنہوں نے درخواستیں ہی نہیں دی تھیں، میرٹ کی دھجیاں بکھیر کر نا اہل افرادکو سیاسی طور پر نوازا گیا۔نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا تھا کہ بھرتیوں میں تحریری امتحان اور ڈومیسائل کی پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی۔ نیب نے ریفرنس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف،سابق ایم ڈی پیپکو طاہربشارت چیمہ،سابق سیکرٹری وزارت پانی و بجلی شاہد رفیع، سابق ڈائریکٹرز بورڈ آف گورنرز محمد سلیم عارف، ملک محمد رضی عباس،وزیرعلی بھائیو،سابق سی ای اومحمد ابراہیم مجوکہ اور سابق ڈائریکٹر ایچ آرحشمت علی کاظمی کوبطور ملزم نامزد کیا تھا۔فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ میں خدا کی ذات کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے سر خرو کیا اور مجھے انصاف ملا ہے۔ا نہوں نے کہا کہ نیب نے مجھے جس ریفرنس میں ملوث کیا تھا اس کا سر تھا نہ پیر، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے، ہم اپنے مقدمات عدالتوں میں لڑتے ہیں اور عدالتوں سے نہیں لڑتے اور ہم نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے۔انہوں نے اپنے لئے دعائیں کرنے والے تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں، مجھے یقین تھاکہ جب پر حق اور سچ پر ہوں تو خدا کی ذات بھی آپ کی مدد کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…