جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بچ جانے والا سگریٹ کتنا خطرناک ہے؟ نئی تحقیق میں ہوشربا انکشافات

datetime 1  فروری‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)سگریٹ کے ٹکڑے لگ بھگ ہر جگہ جیسے باغات، تفریحی مقامات، گلیوں اور گھروں وغیرہ میں عام نظر آتے ہیں اور ایسا مانا جاتا ہے کہ ہر سال ایسے 5 ہزار ارب ٹکڑے دنیا بھر میں پھینکے جاتے ہیں اور انہیں ماحولیاتی عناصر کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے مگر کبھی بھی ان کو صحت کے لیے مضر نہیں سمجھا گیا۔

تاہم اب انکشاف ہوا ہے کہ یہ بظاہر بیکار ٹکڑے بھی زہریلے کیمیکلز کو کئی گھنٹوں بلکہ دنوں تک خارج کرتے رہتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ انکشاف امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔نیشنل انسٹیٹوٹ آف اسٹینڈرڈ اینڈ ٹیکنالوجی کی تحقیق میں ایک ایسے ہی سگریٹ کے ٹکڑے کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ ٹکڑا ایک سے 5 دن تک ایک جلے ہوئے سگریٹ کے 14 فیصد برابر نکوٹین کا اخراج کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ ہم یہ جان کر دنگ رہ گئے کیونکہ ان ٹکڑوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس وقت اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جن ان کو چاردیواری کے اندر یا گاڑی میں پھینکا جائے۔واضح رہے کہ طویل عرصے تک تمباکو نوشی کے صحت پر اثرات کا درست تعین نہیں کیا جاسکا مگر گزشتہ چند دہائیوں کے دوران اس کے بارے میں زیادہ تحقیق ہوئی ہے اور معلوم ہوا ہے کہ یہ عادت جان لیوا ہوسکتی ہے کیونکہ سگریٹ پینے اور سیکنڈ یا تھرڈ ہینڈ دھویں سے بھی کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ دیگر سنگین امراض کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔اس نئی تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ جب سگریٹ پینے کے بعد اس کے ٹکڑے مختلف مقامات پر پھینکے جاتے ہیں تو ان سے کیسے زہریلے کیمیکلز کا اخراج ہوتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے سگریٹ سے خارج ہونے والے سیکڑوں کیمیکلز میں سے 8 کا تجزیہ کیا جن کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے اور اس کے فلٹر کے ایک جز triacetin کا بھی جائزہ لیا گیا۔ٹیم نے 21 سو سگریٹ کو اسموکنگ مشین سے جلا کر ختم کیا اور بجھ جانے پر انہیں ایک اسٹین لیس اسٹیل چیمبر میں رکھ دیا گیا۔انہوں نے دریافت کیا کہ ان ٹکڑوں سے بیشتر کیمیکلز کا اخراج اولین 24 گھنٹوں تک ہوگیا مگر نکوٹین اور triacetin کا 50 فیصد 5 دن بعد بھی موجود رہا۔تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ یہ ٹکڑے ان کیمیکلز کا اخراج اس وقت زیادہ شرح سے کرتے ہیں جب ہوا کا درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ گھر میں موجود ایش ٹرے کو ایک ہفتے میں صاف نہیں کرتے تو اس عادت سے دور رہنے والے افراد کی نکوٹین سے متاثر ہونے کی تعداد موجودہ تخمینے سے دوگنا زیادہ ہوسکتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ سگریٹ پی لینے کے بعد بھی اس میں کیمیکلز کافی عرصے تک موجود رہتے ہیں اور ان ٹکڑوں کو عوامی مقامات پر نہیں پھینکا جائے کیونکہ انہیں ڈی گریڈ ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں بلکہ ان ٹکڑوں کو ریت سے بھرے سیل بند دھاتی یا گلاس جار میں پھینکا جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…