بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اب عوام کو سرکاری نرخ پر گھر بیٹھے سبزی، پھل اوردیگر اشیاء ملیں گی، انتہائی زبردست اعلان کردیا گیا

datetime 31  جنوری‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی)ڈپٹی کمشنر مردان محمد عابد خان وزیر نے کہا ہے کہ ضلع مردان میں پہلی دفعہ عوام کو سرکاری نرخ پر گھر بیٹھے سبزی، پھل اوردیگر اشیائے خوردونوش بغیر کسی ڈیلیوری چارجز کے ڈیجیٹل سبزی اور پھل منڈی بہ تعاون ڈیلیوری کاکا اپلیکیشن کے ذریعے فراہم کئے جا رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے درشل سنٹر میں صوبے کی پہلی ڈیجیٹل سبزی پھل منڈی کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ڈیڈک چیئرمین ایم پی اے ملک شوکت، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر زنیک محمد، جان محمد، اسسٹنٹ کمشنرز مردان تخت بھائی مس گل بانو، مس صوبیا ضیاء، تاجر برادری کے مرکزی اور ضلعی عہدیدار ظاہر شاہ باچا اور احسان باچا بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈیجیٹل سبزی پھل منڈی کے انچارج عباس پراچہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں یہ سکیم مردان کی چار یونین کونسلوں میں شروع کی گئی ہے جن میں محبت آباد، مسلم آباد، بغدادہ اور باغ ارم شامل ہیں جسکو بعد میں ضلع بھر کی تمام یونین کونسلز تک توسیع دی جائیگی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس سروس کے ذریعے عوام کو سستا اور معیاری اشیائے خوردونوش، سبزی پھل وغیرہ ان کے گھر پر دستیا ب ہوں گی۔ جس سے بازاورں میں رش بھی کم ہوگا اور مہنگائی پر بھی قابو پالیا جائیگا۔ ڈپٹی کمشنر مردان نے کہا کہ ضلع مردان کے عوام کے لئے یہ ایک بہت بڑا تحفہ ہے۔ جس سے عوام فائدہ اٹھائیں اور مہنگائی سے چھٹکار ا حاصل کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…