جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان، سمری ارسال کر دی گئی

datetime 30  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو روپے سینتالیس پیسے فی لٹر اضافے کا امکان جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)نے سمری ارسال کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی جانب سے ارسال کی گئی سمری میں ہائی سپیڈ ڈیزل میں 2 روپے 47 پیسے، پیٹرول کی قیمت میں 6 پیسے کمی، مٹی کے تیل کی قیمت میں 66 پیسے کمی جبکہ لائٹ ڈیزل میں 1 روپے 10 پیسے اضافے کی تجویز دی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بڑا بم گراتے ہوئے 2020 کے پہلے ہی دن یکم جنوری کو پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 61 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا تھا۔حکومت کی جانب سے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 25 پیسے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 8 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 10 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا۔اوگرا کی جانب سے ارسال کی گئی سمری میں لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2 روپے 8 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 10 پیسے فی لیٹر، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 25 پیسے فی لیٹر اور پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 61 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔سمری منظوری کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 116 روپے 60 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 127 روپے 26 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 84 روپے 51 پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 99 روپے 45 پیسے فی لٹر مقرر ہے۔خیال رہے کہ 2019 میں پٹرول کی قیمت میں 23.02 روپے، ہائی سپیڈ ڈیزل 18.42، لائٹ ڈیزل 5.99 اور مٹی کے تیل میں 12.85روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا۔ دوسری جانب گیس کی قیمتوں میں ایک سال میں 114 فیصد ہوا۔اگست 2018 میں عمران خان نے وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تو اس سے اگلے ہی ماہ ستمبر میں پٹرول کی قیمت 92 روپے 83 پیسے، ڈیزل 106 روپے 83 پیسے، مٹی کا تیل 83 روپے 50 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 75 روپے 96 پیسے فی لیٹر تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2019 میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 22 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…