بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان، سمری ارسال کر دی گئی

datetime 30  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو روپے سینتالیس پیسے فی لٹر اضافے کا امکان جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)نے سمری ارسال کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی جانب سے ارسال کی گئی سمری میں ہائی سپیڈ ڈیزل میں 2 روپے 47 پیسے، پیٹرول کی قیمت میں 6 پیسے کمی، مٹی کے تیل کی قیمت میں 66 پیسے کمی جبکہ لائٹ ڈیزل میں 1 روپے 10 پیسے اضافے کی تجویز دی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا بڑا بم گراتے ہوئے 2020 کے پہلے ہی دن یکم جنوری کو پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 61 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا تھا۔حکومت کی جانب سے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 25 پیسے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 8 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 10 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا۔اوگرا کی جانب سے ارسال کی گئی سمری میں لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2 روپے 8 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 10 پیسے فی لیٹر، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 25 پیسے فی لیٹر اور پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 61 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔سمری منظوری کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 116 روپے 60 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 127 روپے 26 پیسے، لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 84 روپے 51 پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 99 روپے 45 پیسے فی لٹر مقرر ہے۔خیال رہے کہ 2019 میں پٹرول کی قیمت میں 23.02 روپے، ہائی سپیڈ ڈیزل 18.42، لائٹ ڈیزل 5.99 اور مٹی کے تیل میں 12.85روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا۔ دوسری جانب گیس کی قیمتوں میں ایک سال میں 114 فیصد ہوا۔اگست 2018 میں عمران خان نے وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تو اس سے اگلے ہی ماہ ستمبر میں پٹرول کی قیمت 92 روپے 83 پیسے، ڈیزل 106 روپے 83 پیسے، مٹی کا تیل 83 روپے 50 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 75 روپے 96 پیسے فی لیٹر تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2019 میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 22 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…